سردیوں میں اگر آپ یہ غذائیں استعمال کرتے ہیں تو پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں ،ان غذائوں کے زیادہ استعمال سے کیا ہوسکتا ہے؟ جانئے Daily Ausaf

اسلام آباد(نیو زڈیسک)موسم سرما کا آغاز ہوچکا ہے، جس کے دوران لوگوں میں کھانے پینے کا رجحان بھی کافی بڑھ جاتا ہے۔ویسے بھی یہ موسم گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ کھانے کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے مگر اس میں ہر چیز کو شامل نہیں کیا جاسکتا۔ماہرین اس موسم میں خشک میوہ جات، گریاں اور سبز پتوں والی سبزیوں سمیت اس کے مخصوص پھلوں کو زیادہ کھانا بہتر تصور کرتے ہیں۔تاہم کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں اس موسم میں کم استعمال کرنا ہی بہتر ہوتا ہے،جن کی فہرست درج ذیل ہے۔دودھ سے بنی مصنوعات اگرچہ دودھ کو مکمل غذا مانا جاتا ہے مگر موسم سرما میں بہتر یہی ہے کہ اس کا استعمال کم کردینا چاہئے، ماہرین کے مطابق دودھ بلغم کا باعث بنتا ہے، جو گلے میں خراش کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ٹھنڈے یا گرم مشروبات ہر شخص اس موسم میں چائے کافی کا استعمال پسند کرتا ہے مگر ان مشروبات میں موجود چربی اور کیفین کی مقدار کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے، یہ مشروبات جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، تو ان سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر بہت زیادہ پینے سے گریز کریں بلکہ پانی کو ترجیح دیں۔سرخ گوشت اور انڈے یہ دونوں چیزیں پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، مگر بہت زیادہ پروٹین گلے میں مواد کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر پراسیس گوشت یا زیادہ چربی والا گوشت مسئلے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ مچھلی اور مرغی نسبتاً بہتر آپشن ہیں۔تلی ہوئی غذائیں ڈیپ فرائی غذائیں ٹرانس فیٹ سے بھی بھرپور ہوتی ہیں اور غذائی فائدہ جسم کو پہنچانے کے بغیر ہی کیلوریز کی مجموعی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں، اس طرح کی غذائیں بدہضمی یا معدے کے دیگر مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔دوسرے موسم کے پھل کبھی بھی ایسے پھل کو استعمال نہ کریں جو کسی اور موسم کا ہو کیونکہ وہ تازہ نہیں ہوتا اور بیماری یا طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس کی جگہ زیادہ ترش پھل جیسے مالٹے، کینو وغیرہ کا استعمال کریں جو جسم کے میٹابولزم کو بہتر کرتے ہیں۔چینی طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موسم سرما میں زیادہ میٹھا کھانا جسمانی دفاعی نظام کو کمزور کرسکتا ہے، جو مختلف امراض کے لیے جسم کو آسان شکار بنا دیتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.