ہرنیا کیسے شکار بناتا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟
ہرنیا ایک ایسا مرض ہے جو زیادہ تر مردوں میں عام ہوتا ہے تاہم خواتین بھی اس کا شکار ہوسکتی ہیں۔
اس مرض میں پیٹ کے کمزور حصے سے آنتیں یا دیگر اعضا پیٹ کے باہر خارج ہوکر جلد کے نیچے ایک تھیلی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔


ڈان کے ایک رپورٹ کے مطابق عام طور پر ہرنیا شکم میں زیادہ عام ہوتا ہے مگر یہ ناف، ران کے اوپری حصے اور gorin کے حصے میں بھی ہوسکتا ہے، یہ پیدائشی بھی ہوسکتا ہے تاہم زیادہ تر یہ عمر کی تیسری یا چوتھی دہائی میں سامنے آتا ہے۔
ہرنیا کی وجوہات
ہرنیا اس وقت کسی کو شکار بناسکتا ہے جب کمزور مسلز یا مسلز میں کمزوری جسم کے اندر ٹشوز کے ٹوٹنے اور مرمت کے قدرتی چکر میں مداخلت کا باعث بن جائے۔
عمر میں اضافہ، دائمی کھانسی اور سرجری سے ہونے والا نقصان مسلز کی کمزوری کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں جبکہ بہت بھاری بوجھ اٹھانا، قبض رہنا، معدے میں سیال کا اجتماع یا اس حصے کی سرجری سے بھی یہ خطرہ بڑھتا ہے۔


ہرنیا کی علامات
اس مرض کی سب سے عام علامت متاثرہ حصے میں ایک گلٹی ابھرنا ہے۔
دیگر عام علامات میں متاثرہ حصے میں درد یا بے سکون، کمزوری یا معدے میں بھاری پن، متاثرہ حصے میں جلن یا خارش کا احساس، سینے میں درد، نگلنے میں مشکل اور سینے میں جلن قابل ذکر ہیں۔
کونسےعناصر خطرہ بڑھاتے ہیں؟
خاندان میں ہرنیا کی تاریخ، موٹاپا، دائمی قبض، کھانسی اور تمباکو نوشی سے اس مرض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

علاج کیا ہے؟
اس کی تشخیص عام طور پر ڈاکٹر مختلف طریقوں سے کرتے ہیں اور عام طور پر اس کا علاج سرجری سے ہی ہوتا ہے، مگر کچھ اقسام میں ادویات بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔
Courtesy: Daily Ausaf
Comments
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS