ایک انرجی ڈرنک بھی خون کی رگوں کےلیے نقصان دہ ثابت Daily Ausaf

ٹیکساس(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان سمیت دنیا بھر میں نوجوان نسل تیزی سے انرجی ڈرنکس کی جانب راغب ہورہی ہے اور تیزی کے ساتھ اس کے خطرناک نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ جہاں انرجی ڈرنکس نوجوانوں کو ذیابیطس کا مریض بنارہے ہیں وہاں اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صرف ایک انرجی ڈرنک بھی دل کی شریانوں کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔انرجی ڈرنکس میں کیفین، ٹورائن اور دیگر مضر اجزا کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور اسی بنا پر ڈاکٹروں کے نزدیک انرجی ڈرنکس ہمیشہ ہی موضوعِ بحث بنے رہتے ہیں۔ سائنس داں اسے دل اور جگر کے لیے برا جانتے ہیں اور اب امریکی ماہرین نے اسے خون کی اہم نالیوں کے لیے مضر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انرجی ڈرنک کا ایک گلاس بھی مضر صحت ہے۔یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیلتھ سائنس سینٹر میں واقع مک گورن میڈیکل اسکول کے ماہرین نے اس تحقیق کے لیے ایسے 44 افراد کو بھرتی کیا جن کی عمریں 11 سے 20 سال کے درمیان تھیں اور ان میں سے کوئی بھی تمباکو نوشی کا باقاعدہ عادی نہ تھا۔ ماہرین نے پہلے تمام شرکا کا اینڈو تھیلیئل (خون کی نالیوں) کا ٹیسٹ کیا اور اس کے بعد ہر ایک کو 700 ملی لیٹر انرجی ڈرنک پلایا۔ اس کے 90 منٹ بعد شرکا کی خون کی نالیوں کا دوبارہ ٹیسٹ لیا گیا۔ مشروب پینے سے قبل ان کی شریانوں میں زیادہ خون بہنے کے بعد پھیلنے کی شرح 5.1 فیصد تھی جو انرجی ڈرنکس پینے کے بعد نصف یعنی 2.8 فیصد رہ گئی۔ یعنی رگوں کی لچک پر غیرمعمولی اثر پڑا۔ ماہرین اس کیفیت کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انرجی ڈرنکس میں شامل کیفین، ٹورائن ، چینی کی غیرمعمولی مقدار اور دیگر اجزا شریانوں پر اثرانداز ہوتے ہیں تاہم ماہرین اس کی محفوظ مقدار سے ناواقف ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ صرف ایک گلاس سے بھی انسانی رگیں متاثر ہوتی ہیں جس کا عملی مظاہرہ کیا جاچکا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.