غصہ کنڑول کرنے کے 5آسان طریقے Daily Ausaf

چین (نیوز ڈٰسک )غصہ ایک نہایت طاقتور جذبہ ہے جو انسانی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ غصے کے دوران جذباتی اور نامعقول فیصلے کرنا عام بات ہے اور یہ بہت مشکل ہے کہ غصے میں ہوش و حواس پر قابو رکھا جائے۔ماہرین کے مطابق شدید غصہ دل کے اچانک دورے، دماغ کی شریان پھٹنے یا فالج کے حملے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مستقل غصہ کرنا ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا باعث بنتا ہے جو آگے چل کر صحت کو مزید نقصانات پہنچاتا ہے۔یہاں ہم آپ کو ایسی 5 تجاویز بتارہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنے غصے پر قابو پا سکتے ہیں جو آپ کی صحت اور جذبات کے لیے مفید ہوگا۔ --> 1۔مزاح:۔غصے کے دوران کسی مزاحیہ صورتحال یا گفتگو کو یاد کرنا یا مزاح پر مبنی کوئی شے دیکھنا غصے کو کم کرسکتا ہے۔یہ ایک بہت آسان طریقہ ہے جو باآسانی آپ کے غصے کو کم کرنے میں مدد دے گا۔2۔جگہ تبدیل کریں:،جب 2 افراد غصے میں ایک دوسرے سے بحث و تکرار کریں تو ایک شخص کا وہاں سے ہٹ جانا بہتر ہوتا ہے۔یہ عمل صورتحال کی کشیدگی اور غصے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے جس کے بعد غصے کا شکار افراد ٹھنڈے دماغ سے صورتحال کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔3۔مفروضے قائم کرنے سے گریز کریں:۔بعض دفعہ ایسی صورتحال بھی پیش آتی ہے جب ہم اپنی طرف سے مفروضے قائم کرلیتے ہیں اور انہیں سچ سمجھ کر سخت ردعمل کا مظاہر کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔یہ ضروری ہے کہ لوگ آپس میں گفت و شنید کے ذریعے مسائل کو حل کریں تاکہ غصے اور بد گمانیوں سے بچا جاسکے۔اپنی طرف سے مفروضے قائم کرنا اور انہیں درست سمجھنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔4۔مراقبہ:۔باقاعدگی سے مراقبہ کرنا ذہن کو پرسکون کرتا ہے اور دماغ سے غصے سمیت منفی جذبات کا خاتمہ ہوتا ہے۔اگر آپ کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے تو مراقبے کو اپنا معمول بنا لیں یقیناً آپ اپنے غصے میں کمی محسوس کریں گے۔5۔پرسکون مقام:۔بعض اوقات پرہجوم اور پرشور مقامات بھی ہمارے دماغ کو تناؤ کا شکار کردیتے ہیں جس کے بعد ہمیں معمولی سی بات پر بھی غصہ آسکتا ہے۔دماغ کو پرسکون بنانے کے لیے ضروری ہے کہ روز کسی خاموش اور آرام دہ مقام پر وقت گزارا جائے۔ یہ مقام گھر سے دور ساحل سمندر بھی ہوسکتا ہے، اور گھر کے اندر کوئی خاموش کمرہ بھی۔خاموشی آپ کے دماغی خلیات کو آرام پہنچا کر آپ کے اعصاب کو پرسکون کرتی ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.