سرسوں کے تیل میں پوشیدہ صحت کے خزانے HamariWeb

سرسوں کا تیل تقریبا سب کے گھرو ں میں موجود ہوتا ہے اور یہ بے شمار فوائد کا حامل ہے اس کا استعمال متعدد گھریلوٹوٹکوں میں کیا جا سکتا ہے۔ آج ہم آپ کو سرسوں کے تیل کے چند ایسے استعمال بتائیں گے جو سردیوں کے مسائل خشکی، پھٹی ایڑیاں اور دیگر مسائل پر قابو پانے کے حوالے سے مددگار ثابت ہوں گے۔ جلد کے لیے بہترین سرسوں کا تیل وٹامن ای سے بھرپور ہوتا ہے جو جلد کے لیے بہترین ہوتا ہے، اسے جلد پر لگانے سے فائن لائنز اور جھریوں میں کمی آتی ہے اور یہ سن اسکرین کی طرح کام کرتا ہے۔ تاہم بہت زیادہ تیل جسم پر لگانا نقصان دہ اور خارش کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ آئلی اور حساس جلد والے افراد کو اس کی مالش سے گریز کرنا چاہئے۔ ناریل کے تیل اور سرسوں کے تیل کی یکساں مقدار کو ملاکر مالش کرنا جلد کی رنگت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ ایڑیاں پھٹنے اور جلد ٹوٹ جانے والے ناخن کا مسئلہ دور کرے ایڑیاں پھٹنے کا مسئلہ مون سون اور سردیوں میں کافی عام ہوجاتا ہے اور اس سے نجات کے لیے موم اور سرسوں کے تیل کی یکساں مقدار کو مکس کر کے گرم کریں، جس سے وہ گاڑھا ہوجائے گا۔ ایڑیوں کے متاثرہ حصے پر اس مکسچر کو لگائیں اور کاٹن کی جرابیں پہن کر سوجائیں۔ اسی طرح سرسوں کا تیل ناخن پر لگانا اس کی سطح پر جذب ہوکر انہیں غذائیت فراہم کرکے مضبوط کرتا ہے۔ بالوں کی نشوونما بہتر کرے اگر تو بال گر رہے ہیں یا ان کے بڑھنے کی رفتار سست ہوگئی ہو تو سرسوں کے تیل کا استعمال اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ سرسوں کے تیل میں موجود بیٹا کیروٹین بالوں کی نشوونما کی رفتار تیز کردیتا ہے، اس کی مالش سے سر کے اندر دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بیکریا کش خصوصیات سر کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سرسوں کے بیج کو پیس کر پیسٹ بناکر سرسوں کے تیل میں ملا کر سر پر رات بھر لگا رہنے دیں تو اس سے بالوں کے گرنے کے مسئلے کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.