چکوترا آپ کو بوڑھا نہیں ہونے دے گا۔۔۔ جانیں اس مزے دار پھل سے متعلق 4 زبردست حقائق HamariWeb

ﷲ پاک نے تمام انسانوں کے لیے ہر موسم میں ایسے ایسے پھل پیدا کیے ہیں جن کے فوائد جان کر ہم کائنات کو پیدا کرنے والے کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ موسم سرما کا ابھی صحیح سے آغاز بھی نہیں ہوتا کہ بازار میں چکوترا آجاتا ہے، سِٹریس فیملی سے تعلق رکھنے والا اور وٹامن سی سے بھر پور پھل گریپ فروٹ اکثر و بیشتر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر اس کے استعمال سے صحت پر آنے والے حیرت انگیز فوائد سے لوگ تاحال نا واقف ہیں۔ یہ ایک ایسا پھل ہے جس میں وٹامن، کیلشیم، پوٹاشیم اور بے پناہ اینٹی آکسیڈینٹ کا خزانہ چھپا ہوا ہوتا ہے، اس کو کھانے سے جسم کا کافی فائدے ہوتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان میں کیا کیا شامل ہیں۔ 1) جلد کے مسائل کو حل کرتا ہے: چکوترے کا استعمال جِلد پر آنے والے اضافی تیل کی قدرتی طور پر افزائش کو کم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ کھلے مساموں کو بند کرتا ہے اور ایکنی کیل مہاسوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ گریپ فروٹ کے استعمال سے آپ کی جلد تروتازہ ہوجاتی ہے۔ 2) شوگر و کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے مفید: سرخ چکوترے کے ایک ماہ تک روزانہ استعمال سے کولیسٹرول کی سطح میں 15 فیصد تک کمی کرتا ہے۔ اس پھل کے ساتھ مخصوص ادویات جیسے کہ امراض قلب کی ادویات کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جن افراد میں دل کی صحت سے متعلق شکایات پائی جاتی ہیں اُنہیں اپنے معالج سے پوچھ کر چکوترا استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ پھل بہت فائدہ مند ہے۔ 3) بڑھاپے کے عمل کو سست بناتا ہے: اس پھل میں کافی مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جلد کو جوان رکھنے میں مدد کرتے ہیں اور جھریاں نہیں ہونے دیتے، چکوترے میں سپیرمیڈائن پایا جاتا جس کے سبب عمر بڑھانے والے سیلز کی افزائش میں سُستی آتی ہے۔ 4) وزن میں کمی کی وجہ: فٹنس اور طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ اگر ایک گلاس چکوترے کا جوس پینا عادت میں شامل کر لیا جائے تو یہ تیزی سے وزن میں کمی لاتا ہے اور اضافی چربی کو پگھلنے میں مدد دیتا ہے، چکوترا میٹابولزم کے نظام کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور پیٹ اور آنتوں کی صفائی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.