اگرآپ کاہاضمہ ٹھیک نہیں رہتاتویہ کس جان لیوامرض کی نشانی ہے؟جانیں

کچھ بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی کوئی نشانی نہیں ہوتی اور وہ اچانک نمودار ہوکر انسان کو ایک دم سے بیمار بنا دیتی ہیں۔تاہم کچھ بیماریاں ایسی بھی ہیں جن کی آمد کا پتہ کچھ دیگر نشانیوں اور خرابیوں سے ہوجاتا ہے اور ایسی نشانیوں کو سمجھ کر درست وقت پر معالج سے رجوع کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔



نظام ہاضمہ کی خرابی اگرچہ کئی مسائل کی وجہ سے ہوتی ہے، تاہم یہ مسئلہ کبھی کبھار جان لیوا مرض کا آغاز بھی ثابت ہوتا ہے۔امریکا میں ہونے والی ایک طویل تحقیق سے پتہ چلا کہ نظام ہاضمہ کی خرابی والے مرد حضرات میں جان لیوا مرض پروسٹیٹ کینسر کے ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔جی ہاں، امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج سے .پتہ چلا کہ جن مرد حضرات کو نظام ہاضمہ، تیزابیت اور پاخانہ کرتے وقت جلن اور تکلیف جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے،


ان میں پروسٹیسٹ کینسر کے ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔صحت سے متعلق امریکی حکومتی ادارے ’سی ڈی سی‘ کے جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق جن مرد حضرات کو پاخانہ کرتے وقت تیزابیت، جلن اور تکلیف جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، ان میں عام افراد کے مقابلے پروسٹیٹ کینسر ہونے کے 5 فیصد زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن مرد حضرات کو ’کروہن ڈیسیز یا انفلیمیٹری باؤل ڈیسیز‘ ہوتی ہیں ان مرد حضرات میں پروسٹیٹ کینسر ہونے کے امکانات عام افراد کے مقابلے بڑھ جاتے ہیں۔


ماہرین کے مطابق نظامہ ہاضمے کی خرابیوں اور بیماریوں کا براہ راست تعلق پروسٹیٹ کینسر کے جراثیم پیدا کرنے والے مسائل سے ہے، جس وجہ سے ایسے افراد میں یہ مرض ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے اس تحقیق پر 20 سال تک کام کیا اور تقریبا 10 ہزار افراد کی صحت کا تجزیہ کیا۔یورپین یورولاجی میں شائع اسی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے 1996 سے 2017 تک اس تحقیق پر کام کیا اور سائنسدانوں نے تحقیق کے آغاز اور اختتام پر رضاکاروں کا معائنہ کیا۔رضاکاروں کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ جن مرد حضرات کو نظام ہاضمہ کے مسائل، بیماریاں یا خرابیاں ہوتی ہیں، ان میں پروسٹیٹ کینسر ہونے کے امکانات عام افراد کے مقابلے 5 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔تاہم تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر نظام ہاضمہ کا مسئلہ خواتین کے ساتھ بھی ہو تو ان میں کینسر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں یا نہیں؟تحقیق میں صرف مرد حضرات کا ذکر کیا گیا۔
Courtesy: Daily Ausaf

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.