دانتوں کے بریسز

دانتوں کے بریسز یا Dental Braces ایسے آلات ہیں جنہیں دانتوں کو درست کرنے کے لیے براہِ راست دانتوں پر لگایا جاتا ہے۔اکثر لوگوں کے لیے دانتوں کو ترتیب میں لانے اور سیدھا کرنے کے لیے یہ سب سے بہترین طریقہ علاج ہے۔دانتوں کو سیدھا کرنے کے علاوہ بریسز کا ایک اور مقصد اوپر اور نیچے کے جبڑوں میں دانتوں کی تقسیم کو بہتر اور متوازی بنانا بھی ہے۔ دانتوں کو ترتیب میں لانے کے لیے بریسز کے استعمال کے طریقہ علاج کو ایک خاص نام سے پکارا جاتا ہے جسے "آرتھو ڈانٹکس " کہتے ہیں، جو کہ ناہموار دانتوں کے طریقہ علاج کا نام ہے۔بریسز کے ساتھ کیا جانے والا آرتھوڈانٹک طریقہ علاج نہ صرف دانتوں کے فعل میں بہتری لانے کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات اسے کاسمیٹک نقطہ نگاہ سے چہرے کی خوبصورتی کے لیے دانتوں کی شکل اور ساخت کو خوبصورت بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔


 
بریسز دراصل ایسے آلات ہیں جو براہِ راست دانتوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ بریسز عموماً دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں ایک حصہ "بریکٹ" اور دوسرا حصہ "وائر یا تار" ہوتا ہے۔بریکٹ کو براہِ راست دانت پر چپکا دیا جاتا ہے اور ان میں سے وائر یا دھاتی تار گزاری جاتی ہے، جسے کسنے پر دانتوں کو مطلوبہ جگہ پر لانا ممکن ہوتا ہے۔ آرتھوڈانٹک طریقہ علاج صرف دانتوں سے ہی متعلق نہیں بلکہ اس طریقہ علا ج میں جبڑے کی ہڈی کی ساخت کو بھی مطلوبہ قسم کی جبڑے کی شکل حاصل کرنے کے لیے بدلا جا سکتا ہے۔

ویسے تو اس طریقہ علاج کو کسی بھی عمر میں شروع کیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ دور میں معالج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچے کے دانتوں کا سات سال کی عمر میں معائنہ کروا لینا چاہیے۔ تاکہ اگر اسے بریسز لگنے والی ہوں تو اس عمر مِیں لگا دی جائیں اور جیسے جیسے اس کے دانت اور جبڑے کی ہڈی بڑھتی جائے، وہ مطلوبہ شکل اور جگہ پر آتی جائے۔
 
بریسز کیسے کام کرتی ہیں؟
بریسز طاقت اور پریشر کو استعمال کرتے ہوئے ایک سست اور کنٹرولڈ طریقہ کار کے تحت کام کرتی ہیں۔عام بریسز میں بریکٹ سے منسلک دھاتی تار اس مقصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔دانت کو ایک بائیو میکینیکل طریقہ کار، جسے "بون ماڈلنگ" یا ہڈی کو ماڈل کرنا کہتے ہیں، کے ذریعے مطلوبہ جگہ پر لایا جاتا ہے۔جب بریسز دانت پر پریشر ڈالتے ہیں تو یہ دانت کو گھیرے ہوئے پیریوڈونٹل جھلی اور اور دانت کے اردگرد کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پیریوڈونٹل جھلی دانت کو اس کی ہڈی میں بنی جگہ کے اندر مکمل طور پر گھیرے ہوئے ہوتی ہے اور یہ دانت کو اس کی ہڈی سے جوڑے رکھنے میں مدد کرتی ہے۔بریسز کے پریشر سے دانت کے گرد یہ جھلی ایک جانب سے کھنچتی ہے اور دوسری جانب سے اس پر دباؤ آ جاتا ہے جس کی بنا پر یہ دانت ہڈی میں اپنی جگہ پر ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔جس جانب دانت پر پریشر آتا ہے، اس جانب سے ہڈی ٹوٹتی ہے تاکہ دانت کی وہ سائیڈ وہاں جگہ بنا سکے، اور جس جانب سے دانت کی ہڈی کھنچتی ہے، اس جانب نئی ہڈی بنتی ہے تاکہ اس جانب سے دانت اپنی جگہ پر مضبوط ہو سکے۔ یہ عمل کے لیے یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ یہ تمام عمل انتہائی سست روی سے ہو۔ اور اسی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بریسز کو ایک لمبے عرصہ تک کیوں لگائے رکھا جاتا ہے۔

کیا بریسز تکلیف دیتی ہیں؟
عموماً روایتی بریسز کے لگنے سے درد نہیں ہوتا، لیکن بعض اوقات بعد میں دانتوں اور جبڑے میں سوجن محسوس ہو سکتی ہے اور اس کی وجہ دانتوں کی وہ سست حرکت ہے جو وہ اپنی مطلوبہ جگہ پر آنے کے لیے بریسز لگنے کے بعد کرتے ہیں۔ یہ ابتدائی سوجن عموماً ایک ہفتہ رہتی ہے اور اس کے بعد دانتوں کے معالج کے ہر وزٹ کے بعد لگ بھگ دو دن کے لیے یہ سوجن دوبارہ محسوس ہو سکتی ہے۔یہ سوجن اور بعض اوقات ہونے والی درد اس بات کا ثبوت ہیں کو دانتوں میں حرکت ہو رہی ہے اور وہ اپنے مطلوبہ مقام پر آہستہ آہستہ جا رہے ہیں۔اس دوران بہتر مشورہ یہ ہے کہ نرم خوراک کھائی جائےاور معالج کے مشورہ سے ہلکی دردکش ادویہ لی جائیں۔
 
بریسز لگوانا کیسا ہے؟
بہت سے لوگ بریسز سے صرف اس وجہ سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں بریسز لگوا کر وہ بدصورت نظر آئیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بریسز لگوانے کے بعد تکلیف بھی ہوتی ہے اور انسان کا چہرہ بسا اوقات اچھا بھی نہیں دکھائی دیتا، اس کے علاوہ بھی بریسز کے کچھ اثرات ہیں جن کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ دانتوں میں سوجن کے علاوہ بریسز لگانے سے جن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
• کھانا کھاتے ہوئے ذرات کا مسلسل بریسز میں پھنسنا
• دانتوں کو صاف کرنے میں کافی وقت لگنا
• کھانے میں خوراک کا دھیان رکھنا کہ کون سی خوراک کھانا آسان ہے اور کس خوراک کو کھانے سے بریسز اور دانتوں کو مسئلہ ہو سکتا ہے
 
لیکن زیادہ تر لوگ بریسز سے علاج کروانے کے بعد اس بات سے خوش دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے جو تکلیف جھیلی، اس کے نتیجے میں انہیں خوبصورت مسکراہٹ اور بہترین دانت حاصل ہوئے ہیں۔اس طریقہ علاج کے نتائج بلاشبہ بہت خوش کن اور فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔

بریسز اترنے کے بعد کا مرحلہ
ایک مرتبہ جب بریسز اتار دیے جاتے ہیں تو اس کے بعد ایکس ریز اور دیگر مراحل کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ دانت اپنی مطلوبہ جگہ اور شکل میں آچکے ہیں یا نہیں۔ اس کا تعین ہونے کے بعد معالج دانتوں پر ایک ریٹینر لگا دیتا ہے۔ ریٹینر دو اقسام کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کہ دانتوں سے اتارے جا سکتے ہیں اور انہیں دوبارہ لگایا جاسکتا ہے۔ دوسرے ریٹینر وہ ہوتے ہیں جو دانتوں کے اندر کی جانب لگائے جاتے ہیں اور یہ مستقل طور پر لگائے جاتے ہیں، یعنی انہیں اتارنا ممکن نہیں ہوتا۔ ریٹینر لگانے کا مقصد دانتوں کو ان کی جگہ پر برقرار رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بریسز اترنے کے بعد دانت دوبارہ سے اپنی پرانی جگہ پر واپس نہ چلا جائے۔ مستقل لگائے جانے والے ریٹینر عموماً بڑی عمر کے افراد کو لگائے جاتے ہیں اور یہ تمام عمر لگے رہتے ہیں، لیکن ایسا ہر شخص کے لیے ضروری بھی نہیں۔ اس بات کا تعین دانتوں کے معالج کرتے ہیں کہ کس شخص کو کس قسم کے ریٹینر کی ضرورت ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.