جان بچانے والی غذا جس سے 90 فیصد لوگ غافل ہیں



اگر ڈاکٹر آپ کو انتہائی سستی، ادویاتی اثرات سے بھرپور اور جان بچانے والی غذا کھانے کو کہیں تو یقیناً آپ کا جواب ہاں میں ہوگا تو یاد رکھیے کہ یہ غذا ریشہ یا فائبر کہلاتی ہے جو دل کے امراض، فالج، بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض کو روکنے میں لاثانی ہے۔



حال ہی میں فائبر اور کولیسٹرول کے درمیان ایک رابطہ دریافت ہوا ہے اور یوں فائبر خون میں کولیسٹرول کو بھی نارمل رکھتا ہے۔ اگرچہ فائبر کو صرف قبض کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جو درست نہیں اگر ہزاروں نہیں تو سیکڑوں تحقیقات اور مطالعوں سے فائبر کی اہمیت دنیا پر واضح ہوچکی ہے۔ ماہرین روزانہ 25 سے 30 گرام فائبر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔بعض لوگ کیلے کو فائبر کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن 120 گرام وزنی کیلے میں فائبر کی صرف 3 سے 4 گرام مقدار ہوتی ہے۔ اسی بنا پر دنیا کی 90 فیصد آبادی فائبر استعمال نہیں کررہی۔


فائبر والی غذائیںکئی پھل اور سبزیوں، مکمل اناج (ہول گرین) ، پاستا، پھلیوں، چنوں، بیجوں اور گری دار میووں (بادام، اخروٹ، پستہ وغیرہ) میں اس کی بلند مقدار پائی جاتی ہے۔25 سے 30 گرام فائبر کی تلاش نصف کپ جو یا دلیے میں 9 گرام، دو ویٹا بکس میں 3 گرام، براؤن بریڈ میں 2 گرام، دالوں والے ایک کپ میں 4 گرام، چھلکا سمیت ایک آلو میں 2 گرام، ایک گاجر میں 1 گرام اور چھوٹے سیب میں 4 گرام فائبر پائی جاتی ہے۔ اسی بنا پر ضروری ہے کہ فائبر یا ریشوں کو ناشتے میں استعمال کیا جائے اور دن کے باقی حصوں میں بھی اسے غذا کا حصہ بنایا جائے۔


فائبر کے فوائد185 مطالعوں اور 58 طبی ٹیسٹ سے فائبر کی اہمیت سامنے آئی ہے اور اس کی تفصیلات حال ہی میں معروف امریکی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر 1000 افراد کو 15 گرام (کم ترین فائبر) سے 25 سے 29 گرام فائبر(زیادہ فائبر) کی جانب لایا جائے تو اس سے 6 افراد کو دل کے امراض اور 13 افراد کو قبل ازوقت موت سے بچایا جاسکتا ہے۔فائبر آنتوں میں رہنے والے لاکھوں اقسام کے بیکٹیریا کی خوراک ہوتی ہے۔ بیکٹیریا اس کے ردِ عمل میں مفید کیمیکلز خارج کرتے ہیں جس کے پورے جسم پر وہ تمام اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کا ہم ذکر کرچکے ہیں
Courtesy: Daily Ausaf

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.