پاکستان میں بچوں کی ویکسینیشن

پاکستان میں نو مولود بچوں کی ویکسینیشن ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ویکسینیشن کی اس ابتر صورتحال کے ذمہ دار عوامل درج ذیل ہیں۔
• آگاہی نہ ہونا
• بچوں تک رسائی کے مسائل
• غربت
• ویکسینیشن کے بارے میں غلط نظریات
• مانع حمل ذرائع کے بارے میں معلومات اور رسائی نہ ہونا
لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت گزشتہ چند سالوں سے ویکسینیشن کی صورتحال کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اسے عوام کے دروازے تک پہنچانے میں دلچسپی لے رہی ہے ،اور اس ضمن میں حکومتی سوچ اور نقطہ نظر میں کچھ اہم تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے نو مولود بچوں کے یکسینشن پروگرام کے لئے علیحدہ فنڈ بھی مختص کیے ہیں۔ سنہ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق نو مولود بچوں میں سے 70 فیصد بچوں کو یکشینیشن کی سہولت دستیاب تھی جس میں آنے والے سالوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان ویکسین میں پولیو، خسرہ، ٹی بی، خناق، تشنج اور کالی کھانسی کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی ویکسینشن بھی اب EPI شیڈول میں شامل ہے۔ جبکہ تازہ ترین شیڈول میں گردن توڑ بخار اور نمو نیا کے خلاف ویکسین بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ بچوں کے لیے ویکسینیشن کا جدول درج ذیل ہے:-



عمر ویکسین
پیدائش سے 15 دن BCG (Tuberculosis) + OPV (For Polio)
6 ہفتے OPV + DPT1 + HepB1 + Hib 1
10 ہفتے OPV2 + DPT2 + HepB2 + Hib 2
14 ہفتے OPV3 + DPT3 + Hep B3 + Hib 3
9 ماہ Measles Vaccine
15-18 ماہ 1st booster of OPV/DPT + MMR
5-6 سال 2nd booster of DPT
10 سال Tetanus vaccine
16 سال Tetanus vaccine

اہم نکات


• BCG یہ ٹی بی کے لیے دی جاتی ہے اور اس کی مقدار 0.1 ملی لیٹر ہوتی ہے جو کہ جلد میں لگنے والے انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔
• OPV یہ اورل پولیو ویکسین کا مخفف ہے۔ اس کی مقدار مینو فیکچرر کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔
• DPT یہ ڈفتھیریا، پرٹوسس اور ٹیٹنس کا مخفف ہے جس کے معنی اردو میں خناق، کالی کھانسی اور تشنج کے ہیں۔ اس کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہے جو کہ پٹھوں یعنی مسلز میں لگائی جاتی ہے۔
• Hep B یہ ہیپاٹائٹس بی کا مخفف ہے۔
• Measles یعنی خسرہ کی خوراک کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہوتی ہے جو کہ جلد کے نیچے لگائی جاتی ہے۔
• Hib اس سے مراد میننجائٹس یعنی گردن توڑ بخار ہے۔
• MMR اس سے مراد میزلز / خسرہ، ممپس /کن پیڑے اور روبیلا کی ویکسین ہے۔ روبیلا، زرد بخار کا باعث بنتا ہے۔


اوپر دیا گیا شیڈول پاکستان میں نو مولود بچوں کی ویکسین کے لیے بنایا گیا تازہ ترین جدول ہے۔ Hibاور MMR پاکستان کے کچھ علاقوں میں دستیاب نہیں ہیں۔ اس جدول کو EPI (Extended program on immunization) کا نام دیا گیا ہے اور اسے ور لڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO نے ڈیزائن کیا ہے۔
ویکسین بچوں میں بیماریوں اور اموات کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے پاکستان میں EPI پروگرام 1978 میں شروع کی گیا تھا اور شروع میں چھ بڑی بیماریوں کے خلاف ویکسین شروع کی گئی تھیں۔ ان بیماریوں میں پولیو، ٹی بی، خسرہ، خناق، تشنج اور کالی کھانسی شامل ہیں۔2001 میں ہیپاٹائٹس بی کو بھی اس لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ 2008 میں Hib انفلوئنزا اور 2012 میں نمو نیا کی ویکسین اس لسٹ میں شامل کی گئی۔


یہ تمام ویکسین پاکستان کے تمام علاقوں میں واقع مخصوص ویکسینیشن سنٹروں کے ذریعے پاکستان کے تمام بچوں کے لیے مفت دستیاب ہیں۔ علاوہ ازیں یہ تمام والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین بر وقت دلوائیں تاکہ وہ ا ن خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ گورنمنٹ اس بات کو دعوی کرتی ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد بچوں کو EPI ویکسین مہیا کی جاتی ہیں ، جبکہ آز ادانہ ذرائع سے کیے گئے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تعداد 50-60 فیصد ہے ۔اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کے 100 فیصد بچوں کو یہ سہولت مہیا کی جائے تاکہ ان کا صحتمند اور تابناک مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.