جدید دور اور ہربل ادویات

گزشتہ 100 سالوں میں، کیمیائی مصنوعی ادویات کی ترقی اور بڑے پیمانے پر پیداوار نے دنیا کے زیادہ تر حصوں میں صحت کے میدان میں انقلاب برپا کردیاہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی اکثریت اب بھی اپنی بنیادی دیکھ بھال کے لئے روایتی معالجین اور ہربل ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔ افریقہ میں نوے فیصد اور برصغیر پاک و ہند میں ستر فیصد افراد اپنی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لئے ہربل یا دیسی ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔ چین میں، روایتی ادویات صحت کی دیکھ بھال کے لیے مجموعی ادویات کےتقریبا 40 فی صد پر مشتمل ہیں اور چین میں نوے فیصد سے زائد عام ہسپتالوں میں روایتی ادویات دستیاب ہیں۔


قطع نظر اس کے کہ کوئی بھی فرد ہربل ادویات کا استعمال کیوں کرتا ہے، ہربل ادویات صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہ دنیا کی کاروباری منڈیوں میں ایک بڑا کاروباری کردار ادا کر رہی ہیں۔
فی الحال ہربل ادویات کو دائمی اور شدید حالتوں کے علاج اور مختلف بیماریوں جیسے دل کی شریانوں کی بیماری، پروسٹیٹ کے مسائل، ڈپریشن، سوزش، اور مدافعتی نظام کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ چین میں2003 میں روایتی ہربل ادویات نے SARS کو روکنے اور علاج کرنے کے لئے حکمت عملی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ افریقہ میں ایک روایتی جڑی بوٹی ، افریقہ فلاورAfrica Flower کو کئی دہائیوں سے ایچ آئی وی ایڈز سے متعلقہ علامات کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہربل ادویات یورپ میں بھی بہت مقبول ہیں ، اور ان میں جرمنی اور فرانس سرفہرست ہیں جہاں ان ادویات کی Over the counter یعنی بغیر نسخہ کے فروخت کی جاتی ہے، اور کئی ترقی یافتہ ممالک میں ایسنشیل آئل، عرقیات اور ہربل چائے دیگر ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ سٹورز میں باآسانی دستیاب ہیں۔
دنیا آج کئی متعدد بیماریوں گھری ہوئی ہے۔ طبی سائنس میں ترقی مختلف اقسام کی تھراپیز اورطریقہ علاج کی دریافت کی وجہ سے ہے جس نے بڑے پیمانے پر انسانی مسائل کو کم کر دیا ہے۔ ہربل ادویات کا طریقہ علاج، جس کو عام طور پر قدرتی طور پر صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، میں قدرتی ادویات کے وسیع پیمانے پر ایک ایسے نظام کی وضاحت ہوتی ہے جو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے مختلف نقطہ نظرکو پیش کرتا ہے،جنہیں اگر رہنمائی کے ساتھ اپنایا جائے تو مکمل صحت اور طویل صحت مند زندگی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج کل لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال کی یہ قدیم طریقہ علاج کس طرح مؤثر ہو سکتا ہے جب کہ ٹیکنالوجی میں ترقی نے ہمارے طرز زندگی، ہمارے ماحول کے ساتھ ساتھ ہماری ادویات کو بہت زیادہ تبدیل کر دیا ہے؟ ہربل ادویات سے طریقہ علاج زندگی کی سائنس ہے جو نہ صرف بیماریوں کے علاج سے متعلق ہے بلکہ ایک مکمل طریقہ زندگی بھی ہے۔
ہربل ادویات کا طریقہ علاج جسمانی اور دماغی بیماریوں کے مقابلہ کے لئے جامع علاج فراہم کرتا ہے. علاج کے اس قدیم طریقہ کار کو نہ صرف دنیا بھر میں مانا جاتا ہے بلکہ اسے اپنایا بھی گیا ہے۔ ہربل طریقہ علاج قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیارکردہ ادویات پر مبنی ہے، اس میں رویے میں تبدیلی کو فروغ دیا جاتا ہے اور غذائیت سے بھرپور غذا کے استعمال کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ دماغ اور جسم سے متعلق مسائل حل ہوجائیں اور زندگی اور صحت بہتر ہو۔
اس کے علاوہ، ہربل طریقہ علاج میں صحت مند عادات پر زور زور دیا جاتاہےجیسے مکمل نیند،جسم کا مساج، باقاعدگی سے ورزش، یوگا، مراقبہ، اچھے لباس کی عادت، متوازن غذا، باقاعدگی سے مائع اشیاء کا استعمال،ٹینشن ،پریشانی اور غصہ سے بچنے اور صحت مند سماجی اور ذاتی زندگی کو برقرار رکھنے کی عادات شامل ہیں۔
گو کہ اس ہزاروں سالہ پرانے سسٹم کا طریقہ علاج اور اس کا استعمال موجودہ جدید طریقہ علاج اور ادویات سے کافی مختلف ہے، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کئی ایک ایسی مہلک بیماریاں مثلاً کینسر اور کئی ایسی متعدی اور نئی بیماریاں پائی جاتی ہیں جن کا علاج کرنے میں ہربل ادویات اور ہربل طریقہ علاج کامیاب نہیں ہو پایا پے اور معالجین کو اس جانب توجہ دینے کی اشدہ ضرورت ہے۔ لیکن دوسری جانب اس حقیقت سے بھی روگرانی نہیں کی جاسکتی کہ کئی متعدی امراض کا علاج جتنا بہتر ہربل ادویات سے ہوتا ہے، وہاں اتنا ایلوپیتھک اور دیگر طریقہ علاج کامیاب نہیں ہو پاتے۔ تاہم، روایتی ادویات کا استعمال ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں ہے، اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صنعتی ممالک میں قدرتی علاج میں عوامی دلچسپی میں بہت زیادہ اضافہ ہواہے۔ سنہ 2008 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں 38 فیصد بالغ اور 12 فیصد بچے روایتی ادویات کا استعمال کررہے تھے۔ وٹامن اور معدنیات کے بعد ہربل میڈیسن یا قدرتی ادویات کا استعمال سب سے زیادہ متبادل دوا کے طور ہر 18.9 فیصد تھا. 2003 ء میں ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک سروے کے مطابق سروے کے 40 فیصد افراد نے مغربی ادویات کے مقابلے میں روایتی طریقہ علاج کے خانے میں نشان لگایا ۔
روایتی ادویات کا استعمال کرنے کا سب سے عام وجہ یہ ہے کہ یہ سستی ہوتی ہیں ، ایلوپیتھک دواوں کے منفی اثرات کے بارے میں خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہربل ادوہات مریض کے نقطہ نظر سے زیادہ مطابقت رکھتی ہیں۔ ان سے ذاتی صحت کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے ہو سکتی ہے کیونکہ ان ادویات کے معالج تک لوگوں کی پہنچ اور ان کے علاج کی قیمت ایلوپیتھک طریقہ علاج سے زیادہ آسان اور کم ہوتی ہے۔ہربل ادویات کا زیادہ تر استعمال دائمی امراض کے علاج کے لیے دیکھا گیا ہے اور انسانی جان کے لیے خطرناک بیماریوں میں نسبتاً کم لوگ ہی اس طریقہ علاج کی جانب رجوع کرتے نظر آتے ہیں، تاہم روایتی علاج کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔لیکن ایڈوانس درجے کے کینسر اور موجودہ دور میں سامنے آنے والی مہلک بیماریوں کے جواب میں ہربل ادویات کا غیر موثر ہونا ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کی جانب اطبا کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ہربل ادویات بڑے پیمانے پر قدرتی اور محفوظ طور پر سمجھی جاتی ہیں۔لیکن اس بارے میں اس بات پر دھیان دینا لازم ہے کہ اگر ہربل ادویات کو ایلوپیتھک ادویات کے ساتھ ساتھ استعمال کیا جائے تو ان سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ بہرحال دونوں ادویات مختلف طریقہ علاج سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے اجزاء آپس میں مل کر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.