بھرپور نیند ، دماغی صحت ، وزن میں کمی صرف ایک چیز



خشخاش کے بیج سفید اور سیاہ دو قسم کے ہوتے ہیں لیکن عام طور پر سفید بیج زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ پوست کے اندر سے جو نہایت باریک گول بیج نکلتے ہیں انھیں خشخاش کہتے ہیں۔یہ عموماً مختلف پکوانوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خصوصاً کوفتے جیسا مشہور سالن تو خشخاش کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیسٹری اور ڈبل روٹی کی تیاری میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کھانوں میں استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے طبی فوائد بھی ہیں۔ خشخاش کا تیل بھی نکالا جاتا ہے جس کے لگانے سے درد جلد ٹھیک ہوجاتا ہے۔

۱۔بھرپور نیند


خشخاش اور تربوز کے بیج ہم وزن لے کر پیس کر رکھ لیں رات سونے سے آدھے گھنٹے پہلے دودھ کے ساتھ ایک چمچ کھالیں ۔
۲۔سوکھی خارش


خشخاش کے پاؤڈر میں چند قطرے لیموں کا رس اور حسب ضرورت پانی ملاکر لگانے سے خارش ٹھیک ہوجاتی ہے۔
۳۔دماغی صحت


خشخاش کا حریرہ دماغی صحت کے لئے بے حد مفید ہے۔اگر اسے بادام کے ساتھ پیس کر استعمال کیا جائے تو اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
۴۔وزن میں کمی


اومیگا تھری فیٹی ایسڈ خشخاش میں پائے جاتے ہیں جو وزن کو گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لئے روزمرہ اس کے استعمال سے آپ وزن میں نمایاں کمی کرسکتے ہیں۔
۵۔گرمی کا سر درد


خشخاش کو پیس کر پانی ملا کر پیسٹ بنا کر پیشانی پر لگائیں تو گرمی سے ہونے والا سردرد دور ہوجاتا ہے۔
۶۔آنکھ اور کان کا درد


خشخاش کو پانی میں پکا کر اس پانی سے سینکائی کرنے سے درد دور ہوجاتا ہے۔
۷۔نزلہ اور کھانسی


خشخاش کو پانی میں پکا کر ایک چٹکی نمک ملا کر جوشاندہ تیار کریں اور ٹھنڈا ہونے پر چھان کر پی لیں۔ نزلہ اور کھانسی ٹھیک ہوجاتی ہے۔
۸۔جوڑوں کا درد


خشخاش جوڑوں کا درد دور کرنے میں مفید ہے اس کا تیل لگانے سے بھی جوڑوں کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ اگر آپ پین کلر کی جگہ اس کا استعمال کریں تو زیادہ مفید رہتا ہے۔
۹۔خشک جلد


خشک جلد سے نجات کے لئے اگر خشخاش کو پیس کر اس میں دودھ اور شہد یا پھر خالی دہی ملا کر جلد پر لگائیں تو جلد نرم وملائم ہوجاتی ہے۔
۱۰۔سر کی خشکی


سر کی خشکی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس کے باعث بال جھڑنے کا عمل بھی تیز ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے خشخاش کو پیس کر دہی ملا کر اسکیلپ پر لگانے سے سر کی خشکی دور ہوجاتی ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.