ہومیوپیتھی علاج کسی نعمت سے کم نہیں

ہومیوپیتھی قدرتی دواوں کا ایک ایسا طریقہ علاج ہے جسے دنیا بھر میں 200 ملین سے زیادہ افراد روزمرہ اور دائمی امراض کے علاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس طریقہ علاج کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ Like cures Like ، یعنی دوسرے لفظوں میں ایک مادہ کی بڑی مقدار سے پیدا ہونے والی بیماری کو اسی مادہ کی چھوٹی مقداروں میں لینے سے شفا مل سکتی ہے۔



علاج کا طریقہ کار


مجموعی طور پر ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں ہر مریض کا علاج اس کو ایک انفرادی کیس کے طور پر دیکھتے ہوئے اور اس کی فطرت کے مطابق کیا جاتا ہے، اور اس میں اس کے جسم، ذہن ، سوچ اور جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی بیماری کا علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ان تمام جزئیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہومیوپیتھک معالج مریض اس کے مرض کی علامات کے مطابق سب سے مناسب ترین دوا کرتا ہے جو اس مریض کی قوتِ مدافعت اور بیماری کے نوعیت سے مطابقت رکھتی ہے۔
ادویات اور بنیادی نظریہ علاج


ہومیو پیتھک ادویات استعمال کے لیے محفوظ ہیں کیونکہ ان میں شاذونادر ہی کوئی سائیڈ ایفیکٹ دیکھنے میں آئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک ماہر معالج کی زیرنگرانی ہومیو پیتھک ادویات کو ہر عمر کے افراد کو پلایا اور کھلایا جا سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج دنیا بھر میں تقریباً 200 سال سے رائج ہے۔ ہومیو پیتھک ادویہ کا بنیادی طریقہ کار ہر مریض کو ایک انفرادی شخص کے طور پر تصور کرتے ہوئے اس شخص کے اند موجود شفایابی کی صلاحیت کو تحریک دیتے ہوئے بیماری سے نجات دلانا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اسے دنیا میں دوسرے بڑے طریقہ علاج کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔اس کی مقبولیت برصغیر پاک وہند اور جنوبی امریکہ میں سب سے زیادہ ہے ، جبکہ یورپ میں لگ بھگ 30 لاکھ افراد اور لاکھوں دیگر افراد اس طریقہ علاج سے شفایاب ہو رہے ہیں اور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ہومیو پیتھی کا ماخذ


ہومیو پیتھی کا نام اس کے موجد سیموئل ہنمن نے دیا جو کہ لاطینی زبان کے الفاظ جن کا مطلب “Like cures Like” بنتا ہے، سے اخذ کیا گیا تھا۔ ہنمن جرمنی میں 250 سال قبل پیدا ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب لوگوں کے نظریات بدل رہے تھے اور روایتی عقائد اور توہم پرستی کو منطق اور عقل کی بنیاد پر پرکھنے کا سلسہ شروع ہو چکا تھا۔ ہومیوپیتھی کی بنیاد سائنس پر رکھی گئی ہے ،اور اس کا طریقہ کار ایک آرٹ ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا کہ ہومیوپیتھی کی بنیاد like cures like کے اصول پرر کھی گئی ہے، لیکن ایک اور اصول بھی ہے جسے ہومیوپیتھی کا بنیادی اصول قرار دیا جاتا ہے اور اسے "کم سے کم خوراک" یا “the minimum dose” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت دوا کی کم سے کم خوراک یا ڈوز کے ذریعے جسم میں صحتیابی کے عمل کو تحریک دی جاتی ہے۔ ہومیو پیتھی کی مقبولیت کی وجوہات
 ہومیوپیتھک طریقہ علاج آپ کے جسم کی اپنی قوتِ صحتیابی اور قوت مدافعت کو تحریک دیتے ہوئے جسم کو بیماری سے نجات دلانے اور صحتیابی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
 آپ کا ایک فرد کے طور پر علاج کیا جاتا ہے، نہ کہ ایک بیماری کے لیبل کے طور پر جس میں آنے والے تمام افراد کو ایک ہی دوا دے دی جاتی ہے۔ ہر فرد کا جسم، اس کے جسم کے افعال، اس کے جذبات ، اس کی سوچیں، منفی یا مثبت، دوسرے فرد سے علیحدہ ہوتے ہیں اور اسی بنیاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہومیوپیتھی میں پہلے فرد کی جسمانی کیفیات اور علامات پر فوکس کیا جاتا ہے اور ان کے مطابق سب سے مناسب دوا تجویز کی جاتی ہے۔
 ہومیوپیتھی میں انسانی جسم کی تمام علامات اور کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کیا جاتا ہے۔ انسان کی روحانی، جذباتی، دماغی اور جسمانی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا بیماری سے تعلق اور ان کے اثرات کی بنیاد پر دوا تجویز کی جاتی ہے۔
 ہومیو پیتھی ادویات کم سے کم خوارک کی بنیاد پر دی جاتی ہیں جو کہ جسم کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ ان کا عموماً کو ئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی انسان ان کا عادی ہوتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.