شدید گرمی میں سادہ غذا ہی پیٹ کے امراض سے بچا سکتی ہے، ماہرین طب



طبی ماہرین نے کہا ہے کہ شدید گرمی میں امراض پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے،پیٹ کے امراض عام ہیں،مرغن کھانوں سے اجتناب اورپھل،سبزیاں ،پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھانے سے بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔



جناح اسپتال میں کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر عمر سلطان کا کہنا ہے کہ گرمی میں پیٹ کے امراض جن میں ڈائیریا، قے آنا، معدے کا درد، پیٹ کا درد، دست سے متاثر افراد زیادہ تعداد میں اسپتال آتے ہیں،نوجوانوں اور بچے پکوڑے، سموسے، برگر، باہر کی روغنی اشیا زیادہ شوق سے کھاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان بیماریوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں روغنی کھانے پینے کی اشیا سے اجتناب برت کر پھلوں ، سبزیوں، ٹھنڈے مشروبات اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے،2015 کے دوران شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک سے کئی درجن شہری امراض کا شکار ہوگئے تھے، رواں سال رمضان میں بھی شدید گرمی کے خدشات ہیں، شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ رہتا ہے جس میں متاثرہ فرد کو شدید پسینہ اور چکر آنے لگتے ہیں۔


ڈاکٹر عمر سلطان نے بتایا کہ شدید گرمی سے بچنے کے لیے شہری صبح 11بجے سے شام5بجے تک غیرضروری طور پر تیز دھوپ میں نہ نکلیں اگر ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر نکلیں،سادہ پانی میں او آر ایس ملاکرپیئں اگر مریض کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جائے تو اسے فوری سایہ دار جگہ پر لے جایا جائے۔


انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی کے دوران کھانے پینے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے،مرغن اورچٹ پٹی غذاؤں کا استعمال کم کر دینا چاہیے،کیونکہ یہ معدے میں تیزابیت کا باعث بن سکتی ہیں۔ شدید گرمی میں زیادہ گوشت کھانے سے پیٹ خراب ہوجاتا ہے،ٹھیلوں پر فروخت ہونے والی غیرمعیاری اشیا کھانے پینے سے گریز کریں۔


عباسی شہید اسپتال میں ناک کان حلق کے ڈاکٹر نعمان ناصر کا کہنا ہے کہ موسم تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ گلے ناک کان کی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں،گلے میں خراش،نزلہ زکام ہوجاتا ہے جس سے محفوظ رہنے کیلیے ہلکی غذا کے استعمال کو معمول بنایا جائے ، شہری شدید گرمی میں سر پرگیلا رومال ڈال کر باہرنکلیں۔
Courtesy:Express news

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.