مچھروں کو بھگانے کے قدرتی طریقے
جیسے ہی ساون بھادوں کا موسم جوبن پر آتا ہے، مچھروں اور خاص کر ڈینگی میں واضح طور پر اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اور اگر آپ مچھروں کا اکثر نشانہ بنتے ہیں تو آپ ان کے کاٹنے سے ہونے والی کھجلی اور جلد پر پڑنے والے نشانات سے بخوبی آگاہ ہوں گے۔
مچھروں کی مختلف انواع ، جیسا کہ ملیریا پھیلانے والے مچھر، اپنی افزائش کے لیے بیکٹیریا اور پسینہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ مچھروں کی کچھ اقسام خوشبو اور بعض اقسام کاربن ڈائی آکسائیڈ کی جانب کھنچتی ہیں۔ مچھر جس قسم کے بھی ہوں، آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ان سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ ملیریا اور ڈینگی جیسے موذی امراض سے بچا جا سکے۔
اس بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ قدرتی طریقہ کار استعمال کیا جائے۔ عموماً کیڑے مار ادویات کیمیائی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں جن کی وجہ سے اکثر افراد سانس اور جلد کے انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مچھر مار سپرے بھی انتہائی تیز قسم کے کیمیائی اجزاء پر بنیاد کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر جن گھروں میں اس سپرے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے وہاں کے رہائشی افراد میں سانس کی تکلیف کی شکایت ہو جاتی ہے۔
ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے آپ لیے مچھروں کو بھگانے کے چند قدرتی طریقے اکٹھے کیے ہیں جو ہر لحاظ سے صحت کے لیے بے ضرر اور محفوظ ہیں۔
لیموں اور یوکلپٹس کا تیل
لیموں اور یوکلپٹس کا تیل قدرتی طور پر مچھروں کو بھگانے کے لیے ایک انتہائی زود اثر طریقہ ہے۔ خاص کر یوکلپٹس کا تیل تحقیق کے نتیجے میں مچھروں کے خلاف انتہائی موثر ثابت ہوا ہے۔ حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ لیموں اور یوکلپٹس کے تیل کے 32 فیصد مکسچر نے 3 گھنٹے تک مچھروں کے خلاف 95فیصد مزاحمت ظاہر کی۔
آپ خود یہ مکسچر گھر پر تیار کر سکتے ہیں جس کہ لیے آپ کو ایک حصہ لیموں یوکلپٹس تیل کو دس حصے سورج مکھی کے پھول کے تیل  Sunflower Oil میں ملانا  ہوگا۔ لیکن یاد رہے کہ یہ محلول تین سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
حزام  Lavender  
حزام یا لیونڈر کے پسے ہوئے پھولوں سے ایسا تیل اور خوشبو نکلتی ہے جو کہ مچھروں کے بھگانے میں انتہائی کارگر  ثابت ہوئی ہے۔ لیونڈر میں درد کو دور کرنے، فنگس کو دور کرنے اور جراثیم کش ہونے کے خواص بھی پائے گئے ہیں جس کی بنا پر نہ صرف یہ مچھروں کو بھگانے کے لیے کارگر ہے بلکہ یہ جلد کو آرام اور سکون پہنچانے میں بھی معاون ہے۔
لیونڈر کے پودے کو آپ کیاری یا گھر کے اندر بڑے گملوں میں بھی اگاسکتے ہیں۔ اس کے پھولوں کو مسل کر جن جگہوں پر مچھر زیادہ کاٹتا ہو، وہاں لگانے سے مچھر دور رہتا ہے، اور اس کے تیل کو کپڑے پر لگا کر جلد پر لگانے سے بھی مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
دار چینی کا تیل Cinnamon Oil
دار چینی صرف مصالحہ جات اور ہانڈی میں ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ تائیوان میں کی جانے والی ایک تحقیق کے نتیجہ میں معلوم ہوا ہے کہ دار چینی کا تیل مچھروں کے انڈوں کو مارنے میں زود اثر ثابت ہوا ہے۔ یہ تیل بڑے مچھروں کو بھگانے کے لیے بھی کافی معاون ہے۔
دار چینی کے تیل کا1 فیصد محلول بنانے کے لیے 24 قطرے تیل کو چار اونس پانی میں حل کریں۔ اس محلول کو آپ اپنی جلد ، کپڑوں، گھر میں، فرنیچر اور پودوں پربھی استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اس محلول کو بناتے وقت احتیاط برتیں کیونکہ دار چینی کے تیل کی محلول میں زیادہ مقدار آپ کی جلد پر خارش کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے۔
نیم کا تیل
نیم کے تیل کے اثرات کے بارے میں متضاد رائے پائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایتھوپیا میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نیم کا تیل مچھروں کے خلاف تین گھنٹے تک 70 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن نیم کے تیل کو جلد پر براہِ راست استعمال کرنے سے منع کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے جلد پر بعض اوقات کافی شدید خارش اور سوزش دیکھی گئی ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس کا محلول مچھروں کو بھگانے کے کیے کافی زود اثر ہے۔
0 سے 100 ملی لیٹر نیم کے تیل کو پانی، تیل یا کسی لوشن میں حل کر کے یک جان آمیزہ بنا لیں۔ بہتر نتائج کے لیے ایکسٹرا ورجن اور کولڈ پریسڈ نیم کا تیل استعمال کریں۔
Comment on مچھروں کو بھگانے کے قدرتی طریقے
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS