موٹاپے سے نجات کے 9 آسان طریقے Daily Ausaf

اسلام آباد(نیو زڈیسک)دنیا بھر میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ خواتین اور حضرات اس کے علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں، کھیل کے میدانوں اور جم کے چکر کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر موٹاپا ہے کہ ختم نہیں ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ آپ خوراک میں معمولی تبدیلوں کے ذریعے سے موٹاپے سے نجات پا سکتے ہیں۔ خوراک میں شامل بعض اجزا جسم میں چینی اور چربی کو جلا کر زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ اس سے موٹاپا خود بخود بھاگ جاتا ہے۔عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موٹاپے سے بچنا ہے تو خوراک کم کر دو، اس طرح کم کھانے سے وزن خود بخود بھاگ جائے گا، یہ سوچ غلط ہے۔ یہ ہر شخص پر صحیح ثابت نہیں ہوتی۔البتہ کچھ خاص قسم کے پھل اور سبزیاں کھانے سے نظام ہاضمہ بہتر کام کرنے لگتا ہے۔ یہ پھل چربی اور چینی کی مقدار کو جلا کر موٹاپا ختم کر دیتے ہیں۔ غذائی ماہرین اس سلسلے میں 9 پھلوں اور سبزیوں کو انتہائی قرار دیتے ہیں۔ناشپاتی موٹاپے سے نجات کے لیے یورپی دنیا میں اسے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ چینی آہستہ آہستہ جسم میں شامل ہوتی ہے تو یہ اس میں کام آتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ چینی کے توانائی میں کمی کر دیتا ہے۔چینی کی مقدار میں کمی ہونے سے جسم چربی کو توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے جس سے موٹاپا خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ادرک زرد زنگ کی یہ سبزی عمومی طور پر جسمانی سوزش کے علاج میں استعمال ہوتی ہے مگر ادرک میں ایک خاص قسم چربی کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق اس قسم کی پروٹین کھانے والے افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ موٹاپے کا باعث بننے والی چربی کے اجزا کو یہ خود ہی جلا کر ختم کر دیتا ہے۔ اس سے وزن اور چربی دونوں میں کمی ہوتی ہے۔ناریل کا تیل بسا اوقات چربی سے زرخیز خوراک بھی وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ ناریل کا تیل بھی انہی میں سے ایک ہے جس کے بے تحاشا طبی فوائد ہیں۔ جب ہم چینی سے پاک قدرتی چربی کا استعمال کرتے ہیں اور بہتر کاربوہائیڈریٹس لیتے ہیں۔پروٹین کی مقدار مناسب ہو تو پھر ہم اپنی خوراک کو اچھی خوراک کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مٹھاسس کی مقدار اور چربی مناسب مقدار میں جسم میں رہتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم کو پہلے سے جمع شدہ چربی کو جلا کر توانائی حاصل کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اور آپ بھوک کا شکار بھی نہیں ہوتے۔ناریل کا تیل دراصل نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ اس میں شامل خاص قسم کی چربی کھانے کے فوراً بعد ہضم ہو جاتی ہے۔ توانائی کا اخراج نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے جس سے چربی جمع ہونے کی بجائے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پہلے سے جمع شدہ چربی بھی پگھلنا شروع ہو جاتی ہے۔سٹابری سٹابری میں جو چربی کو پگھلانے والے کئی اقسام کے اینٹی اوکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ اسے اکثر پانی کے ساتھ سٹور کیا جاتا ہے تا کہ یہ زیادہ عرصہ تازہ رہ سکے۔ بلیو بیریز بھی ایک اچھی خوراک ہے اور یہ بھی چربی کو پگھلانے کا باعث بنتی ہے۔ اس سے پیٹ کا سائز کم ہوتا ہے۔پائن ایپل پائن ایپل میں ایک خاص قسم کا کیمیکل برومی لین پایا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل پیٹ میں موجود دیگر انزائمز کے ساتھ مل کر چربی کو ہضم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اناناس بھوک مٹاتا ہے جس سے چربی میں کمی واقع ہوتی ہے۔انڈے انڈے میں پروٹین اور کم چربی والے اجزا پائے جاتے ہیں جس سے جسم میں پہلے سے موجود چربی کے استعمال میں مدد ملتی ہے۔ انڈے میں موجود امائنو ایسڈز چربی کو جلانے اور پھٹوں کو مضبوط بنانے میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔ امائنو ایسڈز کی ایک خاص قسم لیو سین بھی موٹاپا کم کرنے میں مفید ہےبادامجدید تحقیق میں جہاں باداموں کے بہت سے فائدے گنوائے گئے ہیں۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن نے اپنے جریدے میں لکھا ہے کہ روزانہ 22 گرام باداموں کے استعمال کو کولسٹرول پر قابو پانے مدد دیتا ہے۔ بادام کولسٹرول پیدا کرنے والے ایل ڈی ایل نامی پروٹین کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے۔ اس سے پیٹ کی چربی اور کمر کے سائز میں بھی کمی آتی ہے۔سفید لوبیا سفید لوبیا میں پائے جانے والے کچھ اجزا کاربورہائیڈریٹس پیدا کرنے کے عمل کو سست بناتے ہیں جس سے جسم میں چینی کی مقدار جمع نہیں ہو پاتی۔ چینی کی مقدار کے کم استعمال کے باعث چربی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔مرچیں سرخ مرچ جسم کو دبلا پتلا کرنے کے عمل میں انتہائی اہم سمجھتی جاتی ہے بلکہ سلمنگ سنٹر والے یورپ میں اس کے استعمال کو بڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔اس کے دراصل نظام ہاضمہ پر تھرموجینیک اثرات ہوتے ہیں۔ اچھے معیار کی مرچوں کا تیل بھی کئی ممالک میں جلدی امراض کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے یہ بھی چربی کو پگھلانے میں معاون بنتی ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.