کینسر کا فوری کھوج لگانے والا ایک مختصر آلہ ٹائنی Voice Of America Urdu

واشنگٹن —4 فروری کو دنیا بھر میں کینسر کے سدباب کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ بیماری اب بھی دنیا بھر میں ہلاکت کی ایک بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں کینسر کے لگ بھگ 20 لاکھ نئے کیس سامنے آئے جب کہ چھ لاکھ سے زیادہ افراد اس کی وجہ سے لقمہ اجل بنے۔ لیکن اب کینسر کی روک تھام میں پیش رفت ہو رہی ہے اور کئی عشروں سے کینسر سے ہلاکتوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور نئی ٹیکنالوجی اس مرض کی جلد تشخیص آسان تر بنا رہی ہے۔اگرچہ کینسر اب تک دنیا بھر میں ہلاکتوں کی بدستور ایک سب سے بڑی وجہ ہے، تاہم اس کی جلد تشخیص سے مریضوں کے صحت یاب ہونے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔لیکن ایسے شعبوں میں جہاں مناسب تربیت یافتہ پیتھالوجسٹس موجود نہیں ہیں اس بیماری کی جلد تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔ان دنوں ٹی آئی این وائی نامی ایک نئے آلے کو یوگنڈا میں ٹسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس سے صورت حال کو تبدیل ہو سکتی ہے۔ یوگنڈا کے بیماریوں سے بچاؤ کے ادارے کے ایک ڈاکٹر ایگری سمیر مشین کو ٹیسٹ کرنے والی ٹیم میں شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی ایسا شخص ہمارے پاس آتا ہے جس کی جلد پر ممکنہ طور پر کینسر کی علامات دکھائی دے رہی ہوں تو ہم اس کا ایک ٹشو، اور ڈی این اے لیتے ہیں اور اسے مشین میں رکھ کر یہ جانچتے ہیں کہ آیا ہم اس وائرل ڈی این اے کی مزید افزائش کر سکتے ہیں۔ یہ وہ طریقہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی شخص کس حد تک کینسر کا ہدف بن چکا ہے اور آیا اسے کینسر لاحق ہے بھی یا نہیں۔ٹائنی یا ٹی آئی این وائی، آئسوتھرمل نیکلیک ایسڈ کوانٹی فیکیشن سسٹم کا مخفف ہے اور یہ آلہ کئی دنوں کی بجائے صرف چند ہی گھنٹوں میں کینسر زدہ ٹشوز کا پتا چلا لیتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.