’کافی ختم ہونے جا رہی ہے‘ BBC Urdu

Getty Imagesہم عام طور پر کافی کی صرف دو اقسام استعمال کرتے ہیںدنیا بھر میں کافی کے پودوں کو لاحق خطرات کا پہلی بار تفصیلی اندازہ لگایا گیا ہے جس میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ کافی کے 124 پودوں میں سے 60 فیصد پودے معدوم ہونے کے قریب ہیں۔ کافی کی سو سے زائد اقسام کے پودے قدرتی طور پر جنگلوں میں اگتے ہیں جن میں وہ دو اقسام بھی شامل ہیں جو پینے والی کافی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا میں پانچ میں سے ایک پودے کو معدومی کا خطرہ ہے۔رائل بوٹینیک گارڈنز، کیو کے ڈاکٹر آرون ڈیوس کہتے ہیں کہ 'اگر جنگلی اقسام نہ ہوتیں دنیا کو آج پینے کے لیے اتنی کافی نہ ملتی۔‘'کیونکہ اگر آپ کافی کی کاشتکاری کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہم نے کافی کی فصل کو مستحکم بنانے کے لیے جنگلی اقسام کا استعمال کیا ہے۔' Getty Imagesعربیکا کافی ایتھوپیا میں پائی جاتی ہے'سائنس ایڈوانسز' جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جنگلی کافی کے تحفظ کے لیے 'ناکافی' اقدامات کیے گئے، جن میں وہ اقدامات بھی شامل تھے جو طویل المدت عالمی طور پر کافی کی پیداوار کے لیے 'انتہائی اہم' سمجھے جاتے ہیں۔تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ جنگلی کافی کی 75 اقسام کو معدومی کے خطرے کا شکار سمجھا گیا ہے، 35 کو کوئی خطرہ نہیں اور بقیہ 14 کے بارے میں کوئی فیصلہ کن رائے دینے کے لیے بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔اس کے علاوہ، یہ بھی پتا چلا کہ جنگلی کافی کی مختلف اقسام کا 28 فیصد غیرمحفوظ علاقوں میں اگتی ہیں اور ان میں سے تقریباً نصف سیڈ بینکس میں محفوظ ہیں۔ اسی حوالے سے گلوبل چینج بیالوجی کی ایک اور تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگلی 'عربیکا' کافی کو باضابطہ طور پر خطرے سے دوچار (آئی یو سی این کی سرخ فہرست) قسم قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ بھی پڑھیں!کافی ہم تک کیسے پہنچی؟’روزانہ تین سے چار کپ کافی پینے سے طبی فوائد‘’کافی سے کینسر ہو سکتا ہے، اب یہ بتانا پڑے گا‘ایتھوپیا عربیکا کافی کا گھر ہے جہاں یہ برساتی جنگلوں میں قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ ادیس ابابا میں قائم انوائرمنٹ اینڈ کافی فارسٹ فورم کے ڈاکٹر ٹڈیس وولڈمریم گول کہتے ہیں کہ ’ایتھوپیا کے لیے اور دنیا میں عربیکا کافی کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں اس کو جنگلوں میں لاحق خطرات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔‘جنگلی کافی کیا ہے اور ہمیں اس کی ضرورت کیوں ہے؟ کافی استعمال کرنے والے بہت سے افراد اس امر سے بے خبر ہیں کہ ہم کافی کے ہزاروں قسم کے ذائقوں کے لیے کافی کی صرف دو اقسام کا استعمال کرتے ہیں یعنی ’کافیا عربیکا‘ اور ’کافیا روبسٹا۔‘Getty Imagesکافی کو مختلف ذائقوں میں پیش کیا جاتا ہےدرحقیقت، کافی کی 122 اقسام قدرتی طور پر جنگلوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ جنگلی کافی کی بہت سی اقسام پینے میں خوش ذائقہ نہیں ہوتیں لیکن بہت سی اقسام میں ایسے جینیاتی عناصر ہوتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی اور کافی کے پودوں میں بیماری پیدا ہونے جیسے عوامل کے باوجود کافی کے پودوں کی مستقبل میں بقا میں کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ محققین کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں کافی کی فصل کے مستقبل کے لیے جنگلی اقسام کو بچانے کی ضرورت پر زور دینا ہوگا۔معدومی کے خطرات سے دوچار دیگر پودوں سے موازنہعالمی طور پر کافی کے 60 فیصد کے مقابلے میں پانچ میں سے ایک پودا معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ تقابلی طور پر، تقریباً نصف جنگلی چائے اور آم کی اقسام کو معدومی کے خطرے کا سامنا ہے، چھ فیصد ریٹھے اور نو فیصد پستے کے پودوں کو خطرہ ہے۔ جنگلی کافی کہاں پائی جاتی ہے؟ جنگلی کافی کی زیادہ تر اقسام افریقہ کے دور دراز جنگلوں اور جزیرہ مڈغاسکر میں اگتی ہے۔ افریقہ کے علاوہ یہ انڈیا، سری لنکا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ ہم کس قسم کی کافی پیتے ہیں؟ کافی کی عالمی تجارت دو اقسام پر منحصر ہے یعنی عربیکا اور روبسٹا۔ Getty Imagesکولمبیا میں کافی کی فصلیںایک تیسری قسم لبریکا (کافیا لبریکا) بھی دنیا بھر میں اگائی جاتی ہے لیکن کافی نوش افراد اس کا استعمال کم ہی کرتے ہیں۔ فصلوں کے جنگلی رشتے دار کیا ہے؟ایسے جنگلی پودے جو جینیاتی طور پر کاشت کی جانے والی فصلوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ وہ خودساختہ طور پر نشو نما پاتے رہتے ہیں اور ان کی پیوندکاری گھریلو استعمال کے لیے اگائی جانے والی فصلوں کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ کاشتکاری کے ابتدائی دور سے ہی ان کا استعمال فصلوں کی پیداوار اور غذائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کا مطالبہ کیا ہے؟ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کافی کی کاشتکاری کو لاحق خطرات کو ضرور سمجھنا چاہیے اور اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے پاس ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ذرائع موجود ہوں۔ گرم علاقوں میں پائے جانے والے بہت سے پودوں کی طرح جو کافی کے بیج بھی سخت ٹھنڈ میں ِخراب ہو جاتے ہیں اور 45 فیصد کافی کی اقسام جنگلی علاقوں کے علاوہ کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ڈاکٹر ایمیئر نک لگھدھا کہتی ہیں کہ کافی کی معدومی کے خطرے کو جاننے کے لیے پہلی بار آئی یو سی این ریڈ لسٹ نے تخمینہ لگایا ہے اور ساٹھ فیصد کا ہندسہ 'انتہائی زیادہ' ہے۔وہ کہتی ہیں کہ 'ہم امید کرتے ہیں کہ نئے اعداد و شمار ان اقسام کی نشاندہی کریں گے جنھیں کافی کی پیداوار مستحکم رکھنے لیے ترجیح دینا ہوگی تاکہ ان اقسام کو بچانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔'

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.