ہرے پتوں والی سبزیاں جگر کی بہترین محافظ اور ۔۔۔۔ Daily Ausaf

اسلام آباد(نیو زڈیسک) ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرے پتوں والی سبزیاں جگر کی بہترین محافظ ہوتی ہیں کیوں کہ ان میں نائٹریٹ بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ایک جانب تو دل کو طاقت دیتا ہے تو دوسری جانب جگر کے ایک عام مگر بسا اوقات جان لیوا مرض فیٹی لیور کو دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔پالک، سلاد اور پھول گوبھی جیسی سبزیوں میں نائٹریٹ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جس کے بہت سے طبی فوائد ہیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ یہ بالغوں میں جگر کی سب سے عام کیفیت ’نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز‘ (این اے ایف ایل ڈی) یا ’لیور اسٹیٹوسس‘کو روکتا ہے۔ اس مرض میں جگر کے اندر چربی جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے اور بسا اوقات قبل ازوقت موت سمیت بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر کے بالغ افراد کی بہت بڑی تعداد ’این اے ایف ایل ڈی‘ کی شکار ہے اور صرف امریکا میں ہی 30 سے 40 فیصد افراد اس کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اس مرض کا تعلق موٹاپے اور غیرمعمولی میٹابولک کیفیات سے بھی ہوسکتا ہے۔ اب بھی اس کا علاج صرف ورزش اور احتیاط ہی ہے کیوں کہ این اے ایف ایل ڈی کی شدید کیفیات میں جگر فائبروسس اور سورسِس شامل ہیں جو کہ جان لیوا ہیں۔سویڈن میں واقع کیرولِنسکا انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں نے ہرے پتے والی سبزیوں میں موجود نائٹریٹ کے بارے میں تحقیق کے بعد کہا ہے کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے جگر میں چربی کی افزائش بہت حد تک کم ہوسکتی ہے۔اس تحقیق کے لیے ماہرین نے چوہوں کے تین گروہوں پر تجربات کیے، پہلے گروہ کو معمول کے مطابق خوراک دی گئی، دوسرے گروہ کو صرف چکنائیوں سے بھری اور تیسرے گروہ کو چکنائیوں بھری خوراک کے ساتھ ساتھ نائٹریٹ کے سپلیمنٹ بھی دئیے گئے۔نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جب زائد چکنائی اور شکر سے بھرپور غذائیں کھانے والے چوہوں کو نائٹریٹ دیا گیا تو ان کے جگر میں چربی کے تمام آثار (مارکر) بڑی حد تک کم ہونے لگے۔ علاوہ ازیں چوہوں میں بلڈ پریشر بہتر رہا اور انسولین سے حساسیت بھی بہتر ہوئی جو ایک بہتر کیفیت ہے۔اگلے مرحلے پر اس موضوع کی مزید تجربہ گاہی تحقیق کی جائے گی اور انسانوں پر اس کے اثرات معلوم کیے جائیں گے

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.