اگر آپ جلد بوڑھا نہیں ہونا چاہتے تو صدا جوان رہنے کا یہ آسان ترین نسخہ آزمائیں Daily Ausaf

اسلام آباد(نیو زڈیسک)ہفتے میں 3 بار ورزش اور صحت بخش غذا دماغ کو ہمیشہ جوان رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ڈیوک یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ درمیانی عمر میں جو لوگ ہفتہ بھر مین 100 منٹ ورزش کرتے ہیں جبکہ پھلوں، سبزیوں اور اجناس پر مشتمل غذا کھاتے ہیں، ان کی دماغی عمر حقیقی عمر سے 10 سال کم ہوسکتی ہے۔اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسے افراد ذہنی آزمائشی ٹیسٹ میں زیادہ بہتر اسکور حاصل کرتے ہیں۔اس تحقیق میں 160 افراد کا جائزہ لیا گیا جو دماغی تنزلی کا شکار نہیں تھے مگر انہیں فیصلہ سازی اور منصوبہ بندی کی کوششوں میںمسائل کا سامنا تھا۔ان افراد کو صحت بخش غذا استعمال کرانے کے ساتھ ہفتے میں 3 بار چہل قدمی، سائیکل چلانے یا جاگنگ کرنے کا کہا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ 6 ماہ کے بعد ان کی ذہنی عمر بہتر ہوگئی اور اس میں 10 سال کی کمی ریکارڈ کی گئی۔محققین کا کہنا تھا کہ ورزش اور صحت بخش غذا سوچنے کی صلاحیت بہتر کرکے دل کو بھی ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہے جبکہ دماغ کی جانب دوران خون بھی بڑھتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئے۔کچھ عرصے قبل امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پھلوں، ،سبزیوں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا کا زیادہ جبکہ سرخ گوشت یا دودھ سے بنی مصنوعات کا کم استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے سکڑنے کی رفتار کو کم کردیتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صحت بخش غذا دماغی تنزلی کا باعث بننے والے الزائمر امراض کا خطرہ کم کرتی ہے اور دماغی عمر میں اضافہ نہیں ہوتا۔پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور زیتون کے تیل کا غذا میں زیادہ استعمال کرنے والے افراد کے دماغ کا حجم اس طرح کی خوراک نہ کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اور ان کی دماغی عمر بھی پانچ سال کم ہوتی ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.