بیسن سے زکام اور کھانسی کا علاج Daily Ausaf

اسلام آباد(نیو زڈیسک)سردیوں کی آمد آمد ہے،آجکل موسم تبدیل ہو رہا ہے۔رات اور صبح کے اوقات میں موسم خنک ہوتا ہے جبکہ بدلتے موسم کے باعث موسمی بیماریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے جس میں کھانسی ، زکام ، بخار جیسے مسائل نے ہرگھر میں کسی نہ کسی فرد کو اپنی گرفت میں لیکر رکھا ہوا ہے۔نزلہ زکام ایک ہی مرض کے دو نام ہیں ۔ دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ جب ناک کے اندر کی لعاب دار جھلی متورم ہوجاتی ہے تو چھینکیں آتی ہیں اور ناک بہتی ہے۔ اس کیفیت کو زکام کہتے ہیں اور جب ناک بہنے کے ساتھ حلق میں سوزش، خراش اور کھانسی ہو تو اس کیفیت کو نزلہ کہا جاتا ہے۔اس مرض کی ابتدا میں طبیعت سست رہتی ہے سر میں درد اور پیشانی پر بوجھ محسوس ہوتا ہے جب کہ حلق سرخ متورم ہوجاتا ہے۔ آنکھوں سے بھی پانی بہنے لگتا ہے۔ آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہلکا ہلکا بخار ہونے لگتا ہے ، جسم گرم اور سست ہوجاتا ہے۔ ایک دو دن بعد کھانسی بھی شروع ہوجاتی ہے۔ حلق خشک ہوجاتا ہے، بھوک نہیں لگتی، پیاس بڑھ جاتی ہےجب نزلہ زکام کی بات آئے تو گھر کے بزرگوں کے گھریلو نسخے کافی کام آتے ہیں۔ انہی گھریلو نسخوں میں سے ایک بیسن سے علاج ہے جو آج بھی زکام اور کھانسی کی شکایت میں کئی گھرانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ماہرین نے بھی مان ہی لیا کہ بیسن زکام میں کارآمد ثابت ہو تا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیسن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو انتہائی ضروری توانائی فراہم کرتے ہیں اور جب ہمیں ٹھنڈ لگی ہو تو بیسن کے ذریعے اس سے بھینمٹا جا سکتا ہے۔نیز بیسن میں تھوڑی ہلدی ملانے سے مزید فرق پڑتا ہے۔ بیسن سے زکام اور کھانسی کا علازکام میں بیسن کا شیرہ بنا کر کھانے سے کافی فرق پڑتا ہے۔بیسن کا شیرہ بنانے کا طریقہ اجزا: بیسن دیسی گھی دودھ ہلدی ترکیب:شیرہ بنانے کے لئے پہلے گھی کو گہرے نان اسٹک پین میں گرم کریں اور پھر بیسن اس میں ڈالیں ۔دھیمی آنچ پر تھوڑا تھوڑا کر کے رنگ تبدیل ہونے تک بھونتے رہیں پھر اس میں دودھ شامل کریں ۔زکام میں گرم گرم شیرہ کھایا جائے تاکہ گلے کو آرام پہنچے۔ شیرے میں میوہ شامل کر کے اسے ذائقے دار بنایا جا سکتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.