جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے والے بچے کند ذہن ہوجاتے ہیں : تحقیق Daily Ausaf

فن لینڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ کا بچہ تعلیمی میدان میں کمزور ہے؟ اسے حساب اور سائنس پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے؟ اور کیا آپ کے بچے کے استادوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت کند ذہن ہے؟ اگر آپ بھی، اکثر والدین کی طرح اس مسئلے کا شکار ہیں تو ماہرین نے اس کی وجہ دریافت کرلی ہے۔ فن لینڈ کی ایک یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو جسمانیسرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے، کھیلنے کودنے کے لیے وقت نہیں نکالتے اور اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں وہ کند ذہن ہوجاتےہیں۔ تحقیق میں شامل ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سروے میں دیکھا کہ پہلی سے تیسری جماعت تک کے وہ بچے جو اپنا زیادہ تر وقت بیٹھ کر بغیر کسی جسمانی سرگرمی کے گزارتے تھے ان کے مطالعہ کی صلاحیت کمزور تھی۔ ریسرچ میں بتایا گیا کہ وہ بچے خاص طور پر لڑکے، جو جسمانی سرگرمیوں میں متحرک رہتے تھے وہ تعلیمی میدان میں بھی آگے تھے، اور بہترین یا اوسط کارکردگی دکھاتے تھے، تاہم ان میں بری کارکردگی کا امکان کم تھا۔ ماہرین نے واضح کیا کہ لڑکوں کے برعکس وہ بچیوں میں جسمانی سرگرمی اور تعلیمی کارکردگی میں تعلق تلاشنے میں ناکام رہے۔ ماہرین نے بتایا کہ بچپن میں جسمانی طور پر متحرک رہنے والے اور مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والے بچوں پر دیرپا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ اپنی زندگی میں کئی طبی پیچیدگیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ تحقیق جرنل آف سائنس اینڈ میڈیسن اینڈ اسپورٹس میں شائع ہوئی۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.