پانچ انتہائی خطرناک ترین بیماریوں کاپتہ چلائیے صرف ایک ڈالر خرچ کرکے ، بڑی خبر Daily Ausaf

سنگاپور سٹی(آئی این پی)مختلف بیماریوں کی تشخیص کے ضمن میں ایک اچھی خبرسنگاپور سے آئی ہے جہاں کے ماہرین نے ایبولہ، زیکا، ہیپاٹائٹس، ڈینگی، ملیریا اور دیگر امراض شناخت کرنے والا ایک کارڈ نما اسکرین بنایا ہے جو فوری، کم خرچ، مؤثر اور درست انداز میں ان بیماریوں کا پتا لگاتا ہے۔ اس کی قیمت صرف ایک ڈالر کے برابر ہے!ہاتھوں میںسماجانے والے اس آلے کو’ اینزائم اسسٹڈ نینوکمپلیکسس فور وڑول ایڈینٹی فکیشن آف نیوکلیئک ایسڈز‘ یا مختصر اینوائڑن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کینسر کی کئی اقسام کے علاوہ جینیاتی امراض کی شناخت بھی کرسکتا ہے۔ایک تو یہ مروجہ ٹیسٹ سے 100 درجے کم خرچ ہے اور صرف ا?دھے سے ایک گھنٹے میں نتائج ظاہر کرتا ہے اور روایتی ٹیسٹ سے چار گنا تیزرفتار بھی ہے۔ اسے بنانے والی ٹیم کی سربراہ شاؤ ہوئی لین، نیشنل یونیورسٹی ا?ف سنگاپور کے شعبہ حیاتی طبی انجینیئرنگ سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ کمرے کے عام درجہ حرارت پر اچھی طرح کام کرتا ہے اور اس کے لیے خاص ہیٹراور پمپ وغیرہ درکار نہیں ہوتے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کیلیے باقاعدہ لیبارٹری کی کوئی ضرورت نہیں اور انہیں کہیں بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔جب اسے کئی امراض کے لیے آزمایا گیا تو اسے بہت مؤثر پایا گیا اور اس سے دیگر انفیکشنز کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے۔ بیماریوں کو ٹیسٹ کرنا بہت آسان ہے جسے مختلف رنگوں کی بنا پر معلوم کیا جاسکتا ہے اور اسے اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ٹیسٹ کارڈ خاص خامروں اور ڈی این اے کے ذریعے بیماری کا پتا لگاتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.