شوگر کنٹرول کریں لیکن کیسے؟؟؟ جانیے اس خبر میں Daily Ausaf

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں آج شوگر کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین طبی کی جانب سے گلوئے کے پتے کھانے کی خاص تائید کی گئی ہے۔ شوگر ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسولین کی کمی یا انسولین کے اثر میں خرابی سے خون میں شوگر کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ ہمارے جسم میں موجود لبلبہ جسم میں شوگر پیدا کرتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں تقریباً 10 لاکھ افرادمیں روزانہ کی بنیاد پر شوگر کی تشخیص ہوتی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سال 2020 تک شوگر کا شمار تیسری بڑی بیماری میں کیے جانے کا امکان ہے۔طبی ماہرین نے شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے گلوئے کے پتوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ گلوئے کے پتے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا پتہ ہےجس کا استعمال انسان کو 80سال تک بیمار نہیں ہونےدیتا۔ یہ پودا تقریباً ہر علاقے میں پایا جاتا ہے، گلوئے ایک جڑی بوٹی ہے جس کی جڑ اور بیل جتنی مفید ہے اس کے پتے صحت کے لیےاس سے ہزار گنا زیادہ فائدہ مند ہیں۔گلوئے کے پتوں کو جادوئی جڑی بوٹی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ صرف شوگر کے مرض کا علاج نہیں بلکہ اس سمیت کینسر، موٹاپے، میٹابولزم، کولیسٹرول، دل کی مضبوطی، بلڈ پریشر اور جسم میں موجود خون کو صاف کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ گلوئے کے پتے شوگر کو کیسے کنٹرول میں رکھتے ہیں :*گلوئے کے پتے انسولین کی پیداوار کو بڑھاتے ہیں۔*یہ گلوکوز کی بڑھتی مقدار کو جلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، جس سے خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔*گلوئے کے پتوں میں شامل hypoglycaemic ایجنٹ کا کام شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون میں شکر کی سطح اور لپڈ (lipids) کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔*اس کے علاوہ یہ کھانے کو فوری ہضم کرتا ہے جو کہ شوگر ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.