شعبہ طب میں ایکسرے نہایت اہمیت کا حامل Daily Ausaf

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آج دنیا بھر میں ایکسرے یا ریڈیالوجی کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد طب کے شعبے میں ایکس رے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ میڈیکل کے شعبہ میں ریڈیالوجی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ میڈیکل سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی اس اہم ترین دریافت ایکسرے کو 123 برس ہوگئے ہیں۔ یہ شعاعیں جرمنی سے تعلق رکھنے والےماہر طعبیات ولیم کانراڈ نے 8 نومبر 1895 کو دریافت کی تھیں، جس کے بعد آہستہ آہستہ ریڈیالوجی کا پورا شعبہ وجود میں آگیا اور آج دنیا کے ہر خطہ میں لوگاس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ریڈیالوجی ماہرین کے مطابق ریڈیو گرافی میں میڈیکل امیجز کی تیاری اور پروڈکشن شامل ہوتی ہے تاکہ کلینکل ریڈیالوجسٹ اور دوسرے ڈاکٹرز کو معائنے، تشخیص اور علاج میں مدد مل سکے۔ گزشتہ 10 سال میں الٹرا ساؤنڈ، ایم آر آئی اسکین، سی ٹی اسکین، پی ای ٹی اور ایس پی ای سی ٹی اسکین میں جدت آنے سے ریڈیالوجی کے شعبے نے بہت ترقی کی ہے۔ اس کے علاوہ نیوکلیئر میڈیسن کی ترقی بھی قابل ذکر ہے کیونکہ یہ جسم کے بارے میں نہایت باریک بینی سے معلومات مہیا کرتی ہے اور بیماری کے آغاز میں ہی اس کی تشخیص میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق طب کے شعبے بالخصوص کینسر کے علاج کے لیے ریڈیو گرافی کا اہم کردار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈیالوجی سے بیماری اور اس کے علاج کے مؤثر ہونے کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ کسی بھی بیماری بالخصوص کینسر کا تعین کرنے کے لیے بروقت تشخیص اور معائنہ نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ اس سے بہت سا قیمتی وقت بچ جاتا ہے اور اہم معلومات جلد حاصل کر کے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ ایسے کینسر کے مریض جو کیمو تھراپی یا ریڈیو تھراپی کے ذریعے زیرعلاج ہیں ان کے بنیادی ایکس ریز کرنے اور سلسلہ وار اسکین کرنے میں ریڈیو گرافرز کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اسکین کی مدد سے ایک اونکولوجسٹ کسی مریض کے علاج کے منصوبہ کے مطابق بروقت اور درست فیصلے کرنے کے قابل ہو پاتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ریڈیالوجی کے دائرہ کار میں تھیراپیوٹک انٹروینشنل ریڈیالوجی بھی شامل ہے جو جسم کا مزید باریک بینی سے معائنہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔انٹروینشنل ریڈیالوجی کی مثالوں میں پن ہول سرجری (دانتوں کے لیے) میں مدد فراہم کرنا اور برین ہیمریج، اسٹروک یا فالج، ہائپر ٹینشن یا بلند فشار خون اور اندرونی طور پر خون بہنے کا علاج شامل ہے۔ اس کی ایک مثال کیمو موبلائزیشن بھی ہے جس میں دوا براہ راست ٹیومر کے اندر داخل کی جاتی ہے۔ ریڈیالوجی کے شعبے میں مزید تحقیق کا عمل تاحال جاری ہے اور ماہرین وقتاً فوقتاً اپنی ضرورت کے مطابق اس سلسلے میں نئی سے نئی ایجادات و دریافت بھی کر رہے ہیں۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.