کھجلی سے مکمل نجات پائیں بس یہ آسان ساٹوٹکہ استعمال کریں Daily Ausaf

آپ دوستوں میں بیٹھے ہوں، کوئی انٹرویو دے رہے ہوں یا اہم ملاقات کررہے ہوں ، اس وقت اگر سر میں کھجلی ہوجائے تو یہ کافی پریشان کن اور شرمندہ کردینے والا عمل ہوتا ہے. اس کے نتیجے میں کسی کام پر توجہ مرکوز کرنے میں بھی مدد ملتی ہے اور اکثر یہ کھجلی صرف بالوں کی خشکی سے ہٹ کر بھی دیگر وجوہات کی بناءپر ہوسکتی ہے.جیسے جوئیں، انفیکشن، سر کی جلد خشک ہونا وغیرہ. اکثر افراد اس تکلیف سے نجات کے لیے ہزاروں روپے مختلف مصنوعات پر خرچ کرتے ہیں تاہم چند آسان گھریلو ٹوٹکوں سے بھی آپ سر کی اس کھجلی سے نجات پاسکتے ہیں. --> بیکنگ سوڈا بیکنگ سوڈا جراثیم کش خصوصیات سے لیس ہوتا ہے جو ایسے بیکٹریا کا خاتمہ کرتا ہے جو انفیکشن، بالوں کے گرنے یا خارش کا باعث بنتے ہیں. دو سے تین کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا لیں اور ایک ڈونگے میں کچھ مقدار میں پانی ڈال کر سوڈا اس وقت تک مکس کریں جب تک گاڑھا پیسٹ نہ بن جائے. جب ایسا ہوجائے تو اس پیسٹ کو اپنے سر پر لگا کر دس سے پندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیں، جس کے بعد شیمپو سے بال دھولیں.زیتون کا تیل ورم کش اور جلد کو تحفظ دینے کی وجہ سے زیتون کا تیل بھی سر کے انفیکشن یا خارش سے نجات میں مدد دیتا ہے. زیتون کے تیل کو کچھ دیر کے لیے گرم کریں اور پھر نیم گرم تیل کو سر پر مل لیں. اسے رات بھر کے لیے چھوڑ کر صبح دھولیں. بہتر نتائج کے لیے یہ عمل ایک ہفتے میں دو مرتبہ دہرائیں. ٹی ٹری آئل یہ تیل بھی سر کی نمی بحال کرکے خارش سے نجات دلاتا ہے.پانچ سے سات تیل کے قطرے لیں اور سر پر لگاکر کچھ منٹ کے لیے مالش کرلیں اور رات بھر لگا رہنے دیں. ناریل کا تیل ناریل کا تیل اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل ہوتا ہے جو خارش کا علاج کرتا ہے، اسی طرح اس تیل کی مالش بالوں کی نمی کا توازن برقرار رکھتی ہے. ناریل کے تیل کو نیم گرم کریں اور سر پر مالش کرکے پندرہ منٹ کے لیے لگا رہنے دیں اور پھر بال دھولیں. ایلو ویرا ایلو ویرا جیل لیں اور سر پر لگا کر پندرہ سے بیس منٹ کے بعد بال نیم گرم پانی دھولیں. ہفتے میں یہ عمل دو مرتبہ دہرائیں.

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.