ذہنی دباؤ سے کیسے نمٹا جائے؟ یہ چند طریقے آپکی زندگی کو پُرسکون بنا سکتے ہیں Daily Ausaf

لاہور (نیوز ڈیسک ) مغربی ممالک میں ذہنی دباؤ سے متعلق بڑھتی ہوئی تحقیقات اور تشویش نے عوام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کو بھی پریشان کر دیا ہے اور اب وہ اس سے نمٹنے کے نئے اور مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ --> اس سلسلے میں مختلف نکتہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں۔ مثلاً بعض ڈاکٹروں کے مطابق متواتر جسمانی ورزش، چکنائی سے مبرامتوازن غذا کا استعمال ، سگریٹ ، الکحل اور دیگر کیف اور ہیجان خیز، نشاط اشیاء سے پرہیز ذہنی دباؤ کو کم کرنے یا ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن بعض ڈاکٹروں کے نزدیک صرف یہ اقدامات ہی ذہنی دباؤ سے نمٹے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ انسان کی خود اعتمادی کو بنیادی بناتے ہوئے آرام، مراقبہ اور غور وفکر کو ذہنی دباؤ سے نجات کا راستہ بتاتے ہیں۔ان کے نزدیک مریضوں کا اپنے اوپر یقین اور بھروسہ، خون میں شکر کی مقدار اور جسم کو آکسیجن کی مطلوبہ مقدار مددگار ہوسکتی ہے۔ لیکن چند ڈاکٹر اسے بھی قابل قبول قرار نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے عمل صرف سطحی طور پر ذہنی دباؤ میں کمی کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا یہ تیسرا گروپ رویئے جیسے علاج پر یقین رکھتا ہے۔ یہ علاج انسان کی ذاتی تشخیص کی صورت میں ہی کامیاب رہتا ہے۔ اس طریقہ میں فرد کو ان عوامل اور صورت خاص کی نشاندہی کرنی پڑتی ہے۔ جن کے تحت جس طرح وہ اپنے رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے، اسے وہ رویہ بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر لمبی قطار میں کھڑے ہونے سے گھبراتا ہے اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے، تو یا تو وہ لمبی قطاروں میں ہی کھڑا ہونا چھوڑ دے یا اس رویہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے جس کے تحت وہ اپنے آپ کو مضطرب پاتا ہے۔اس گھبراہٹ اور اضطراب کو یوں دور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپناذہن صورت حال کی طرف سے ہٹالے یا دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگے جو آرام سے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں یا کوئی اور طریقہ اختیار کر لے۔ اس قسم کی توجہ کی تبدیلی ان افراد کے لئے بہت زیادہ سازگار ثابت ہوئی جو ہمہ وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر دل کے مریض بن چکے تھے۔ ایسے لوگوں کو ہر معاملے کا مثبت پہلو دکھایا جاتا تھا اور اسے اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی تا آنکہ انہوں نے اپنا رویہ مکمل طور پر تبدیل نہیں کر لیا

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.