مچھلی کا تیل جسم کا مدافعتی نظام درست رکھتا ہے:طبی ماہرین Daily Ausaf

کراچی (نیوز ڈیسک )قدرت نے مچھلی کو بہت سی صحت بخش خوبیوں سے نوازا ہے۔ تندرستی اور صحت مندی کی جانب لے جانے والی یہ ایک ایسی غذا ہے جو ہمیں کئی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔مچھلی کھانے میں بہت مزے دار اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے۔ مچھلی کے تیل کے بھی بہت فائدے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مچھلی کا تیل (کاڈلیور آئل) سبزیوں کے تیل کی طرح مفید ہوتا ہے جو جسم میں موجود خراب کولیسٹرول کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مچھلی کے تیل میں موجود مفید صحت چکنائی (اومیگا۔۳) نسوں کی تعمیر و مرمت میں مدد دیتی ہے۔ مچھلی کے تیل میں ایسی چکنائی پائی جاتی ہے جو انسانی جسم کیلئے بہت ضروری ہے۔ --> یہ تیل ہمارے جسم کے نظام کو درست رکھتا ہے۔ سردیوں میں مچھلی کا تیل پینا زیادہ فائدے مند ہے۔ اسے پینے سے جسم کو ایسی توانائی ملتی ہے جس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوجاتا ہے۔ مچھلی کا تیل بیماریوں کا حملہ غیر موٴثر بنادیتا ہے۔ طبی ماہرین نے مچلی کا تیل انجائنا کے کئی مریضوں کو استعمال کرایا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ۔ اس میں شامل اوامیگا۔۳ چکنائی امراضِ قلب سے بچانے میں مدد دتی ہے۔جب ہمارے خون میں چربی کی مقدار بڑح جاتی ہے تو یہ چربی شریانوں میں جمنے لگتی ہے، جس کی وجہ سے شریانیں سُکڑ جاتی ہیں اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پدا ہونے لگتی ہے۔ مچھلی کا تیل پینے سے سکڑی ہوئی شریانیں کھُلنے لگتی ہیں۔ شریانوں میں جمی ہوئی چربی کی تہ کم ہونے لگتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ دور ہوجاتا ہے۔دمے کے مرض میں مچھلی کا تیل پینے سے دمے کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ مچھلی کا تیل پینے یا کیپسول کھانے سے سانس کی نالیوں میں چکنائی نہیں جمتی اور سانس کی نالیاں درست انداز میں کام کرتی ہیں۔ مچھلی کا تیل جسم کا مدافعتی نظام بھی درست رکھتا ہے۔ یہ تیل عام نوعیت کی بیماریاں، جیسے سردی لگنا، نزلہ زکام اور کھانسی سے محفوظ رکھنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ اس تیل کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس کے استعمال سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوتا ۔ مچھلی کا تیل معالج کے مشورے سے پینا چاہئے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.