خواتین میں دل کے دورے کی علامات Daily Ausaf

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )دنیا بھر میں دل کا دورہ قبل از موت کا باعث بننے والی ایک عام وجہ ہے اور اس مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔دل کا دورہ پڑنے سے قبل ہمارا جسم ہمیں کچھ مخصوص سگنلز بھیجتا ہے جو دل کے دورے کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر ان علامات پر توجہ دی جائے تو دل کے دورے کو جان لیوا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔گو کہ دل کے دورے کی یہ علامات مرد اور خواتین میں یکساں ہوتی ہیں تاہم خواتین میں کچھ علیحدہ مندرجہ ذیل علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ --> پشت، گردن، جبڑے اور بازوؤں میں دردـ:۔دل کا دورہ پڑنے سے قبل عموماً سینے پر دباؤ اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے تاہم خواتین کو یہ تکلیف جبڑے، بازووں اور گردن میں بھی محسوس ہوسکتی ہے۔یہ درد ایک لہر کی صورت میں اچانک ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ سوتے میں آنکھ کھل سکتی ہے۔ اس کا احساس ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔معدے میں تکلیف:۔خواتین میں دل کے دورے کی ایک علامت معدے سے متعلق امراض جیسے سینے کی جلن اور درد ہونا بھی ہے۔ ایسی صورتحال میں پیٹ میں ناقابل برداشت درد بھی محسوس ہوتا ہے۔ٹھنڈے پسینے:۔پریشانی اورذہنی دباؤ کی صورت میں ٹھنڈے پسینے آنا ایک عام بات ہے، تاہم اگر کوئی خاتون زندگی میں پہلی بار اس کیفیت کو محسوس کر رہی ہیں تو یہ دل کے دورے کی علامت ہے اور ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔سانس کے مسائل:۔امراض قلب کی ایک اور اہم علامت سانس لینے میں تکلیف اور سانس کی آمد و رفت میں بے قاعدگی بھی ہے۔دل کے دورے کا شکار ہونے والی خواتین کے مطابق دورے سے قبل اگر وہ بالکل ساکت بیٹھی ہوں تب بھی ان کی سانس اس قدر پھول جاتی ہے جیسے انہوں نے بھاگ کر کوئی طویل فاصلہ طے کیا ہو۔شدید تھکن:۔بہت زیادہ آرام کرنے کے باوجود اگر کسی خاتون کو بے تحاشہ تھکاوٹ محسوس ہورہی ہے اور وہ اپنے معمول کے کام بھی سرانجام نہیں دے پارہیں تو یہ الارمنگ صورتحال ہے جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔سینے پر دباؤ:۔دل کے دورے کی صورت میں ہر جنس کے افراد سینے میں درد اور دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ خواتین میں یہ تکلیف دل کی طرف صرف بائیں جانب نہیں ہوتا بلکہ پورے سینے میں محسوس ہوسکتا ہے۔

Post Your Comments

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.