Find a Doctor Find a Hospital
کیا چائنہ نمک استعمال کرنا خطرناک ہے ؟ یہ کس بیماری کا باعث بنتا ہے ؟ جانئے Daily Ausaf
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چینی کھانوں میں ایک خاص قسم کے نمک اجینو موتو (مونوسوڈیم گلیوٹامیٹ) کا استعمال عام ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے چائنہ نمک بھی کہا جاتا ہے۔گزشتہ ماہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے اس کے استعمال پر پابندی کی سفارش کی گئی۔اتھارٹی کے پینل کے مطابق اجینو موتو سردرد، دل کی دھڑکن کے مسائل، دماغی و اعصابی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ حاملہ خواتین کے لیے بھی نقصان --> دہ ہوتا ہے۔مگر کیا یہ واقعی اتنا خطرناک ہوتا ہے؟تو اس کا جواب امریکا کے مایو کلینک نے اپنی ایک تحقیق میں دیا ہے۔تحقیق کے مطابق عام طور پر یہ نمک چینی کھانوں، ڈبہ بند سبزیوں، سوپ اور پراسیس گوشت کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکا کے محکمہ صحت یعنی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اس نمک کو بطور غذائی جز ' عام طور پر استعمال کے لیے محفوظ' قرار دے رکھا ہے۔تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس کا استعمال تاحال متنازع ہے۔تحقیق کے مطابق اس نمک کو دہائیوں سے لوگوں کو مخصوص غذا کا عادی بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے ایف ڈی اے کو ایم ایس جی والی غذائی کے منفی اثرات کی متعدد رپورٹس ملی ہیں۔ایم ایس جی والی غذاؤں سے جو شکایات عام ملتی ہیں، وہ سردرد، زیادہ پسینہ آنا، چہرے پر دباؤ یا جکڑنا، چہرہ سن ہونا، سوئیاں چبھنا یا جلن کا احساس، دل کی دھڑکن میں اچانک تیزی آجانا، سینے میں درد، دل متلانا اور جسمانی کمزوری وغیرہ۔تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس نمک اور امراض کی علامات کے دوران تعلق کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کچھ فیصد افراد کو اس نمک کے استعمال کے نتیجے میں صحت پر منفی اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔معمولی علامات کے لیے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسے افراد کو چائنہ نمک والی غذاؤں کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔
More News View all
Comments
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS