Find a Doctor Find a Hospital
گھر پر "سن بلاک " بنانے کا آسان ترین طریقہ Neo
اسلام آباد: سردیوں میں دھوپ میں بیٹھنا تو ہر کسی کو اچھا لگتا ہے لیکن اکثر دھوپ میں بیٹھنے سے چہرے کی رنگت بدلنے لگ جاتی ہے۔جس کی وجہ سے مرد و خواتین کو بڑی پریشانی ہو تی ہے ۔ اس مقصد کے لیے سن سکرین اچھے رہتے ہیں ۔لیکن بازار سے ملنے والے سن سکرین مہنگے ہونے کے ساتھ جلد خراب کرنے کا موجب بنتے ہیں ۔ سن اسکرینز میں عموماً زہریلے مادے یا نقصان دہ کیمیکلزموجود ہوتے ہیں جو جلد کے کینسر کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ قدرتی اجزا سے بنائے گئے سن اسکرین جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ بھی جلد کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں ۔ انسانی جسم کو دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے خود کو بچانے کے لیے سن بلاک کا استعمال بھی لازمی ہے۔ لہذا بازار میں ملنے والے سن بلاک سے اچھا ہے اسے گھر میں تیار کیا جائے۔ترکیب :سبز چائے کے پتے، ایک کپگ±لِ بابونہ، 1/2کپموم، 1چھوٹا چمچتل،بادام یا ناریل کا تیل، ایک چھوٹا چمچایلوویرا جیل ،1/2چھوٹا چمچزنک آکسائیڈ ،ایک چھوٹا چمچوٹامن ای آئل، 1/2چھوٹا چمچلیمبو کا عرق، 1/2 چمچ بنانے کا طریقہ درمیانی آنچ پر موم پگھلا ئیں۔ اس میں زنک آکسائیڈ ، تل، بادام یا ناریل کا تیل ملا کر بلینڈ کر لیں۔ اب چولہے سے اتار لیں۔ایک چھوٹے ساس پین میں سبز چائے کے پتے، گل بابونہ ، ایلوویرا جیل اور تھوڑا گرم پانی ڈالیں۔ تھوڑی دیر بعد مکسچر میں سے پانی نکال لیں۔اس پانی کو تیل کے مکسچر میں شامل کریں اور تھوڑا پھینٹیں۔مکسچرکریم کی شکل اختیار کرنے لگے گا۔ لیجئے آپ کا سن بلاک تیار ہے ۔
More News View all
Comments
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS