Find a Doctor Find a Hospital
تمباکو نوشی سے بال جلد سفید ہونے شرو ع ہو جاتے ہیں : ماہرین Neo
نیویارک :بالوں کے سفید ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ یہ ہو تی ہے کہ بالوں کے سفید ہونے کی وجہ سے ان کی شخصیت پر کافی گہرا اثر پڑ رہاہوتاہے ۔ سفید بال بڑھاپے کی واضح علامات میں سے ایک مانے جاتے ہیں مگر ہر ایک انہیں دیکھ کر خوش نہیں ہوتا خاص طور پر اگر وہ جلد نمودار ہوجائیں۔جیسے کچھ لوگوں کے سفید بال تیس سال کے بعد ظاہر ہونے لگتے ہیں تاہم اگر یہ بیس سال کے بعد نظر آنے لگیں تو یہ بھی آج کل کوئی غیر معمولی بات نہیں، خاص طور پر اگر خاندان میں اس کی تاریخ ہو،تاہم اگر آپ کے بال خاندان کے مقابلے میں جلد سفید ہورہے ہیں تو اس میں ارگرد کا ماحول اور طرز زندگی کے عناصر کردار ادا کرتے ہیںجو درج ذیل ہیں: ۔سیگریٹ نوشی: ایک تحقیق کے دوران سگریٹ نوشی اور تیس سال کی عمر سے قبل بالوں کی سفیدی کے درمیان تعلق پایا گیا، اگر کوئی کافی عرصے سے تمباکو نوشی کررہا ہو تو آپ اس کی جلد پر جھریاں بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ بہت زیادہ تناؤ:طبی ماہرین نے تناؤاور سفید بالوں کے درمیان تعلق کافی بحث کی ہے اور کچھ رپورٹس میں اس کے درمیان تعلق ثابت بھی کیا گیا ہے۔ نیویارک یونیورسٹی ایک تحقیق کے مطابق ذہنی تناؤ بالوں کی جڑوں میں موجود خلیات کی شرح میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ طبی مسئلہ:کچھ واقعات میں بالوں میں قبل از وقت سفیدی اور تھائی رائیڈ امراض کے درمیان تعلق سامنے آیا، آٹو امیون امراض جو کہ جلد اور بالوں پر حملہ آور ہوتے ہیں، وہ بھی بالوں میں سفیدی لانے کا باعث بنتے ہیں، تو اگر آپ کا جسم بالوں کے خلیات پر حملہ آور ہوجائے تو وہ سفید ہوجاتے ہیں۔ وٹامن کی کمی:ایک اور وجہ وٹامن بی 12 کی کمی ہے، ایسے متعدد عناصر ہیں جو آپ کو خطرے میں ڈالتے ہیں، جیسے صرف سبزیاں کھانے تک محدود رہنا، برتھ کنٹرول کی ادویات کا استعمال یا غذائی نالی کے مسائل، تاہم اگر وٹامن بی 12 کی وجہ سے بال سفید ہورہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم میں خون کی کمی ہے۔ تمباکو نوشی:ایک اور ممکنہ وجہ تمباکو نوشی ہے کیونکہ یہ عادت جلد اور بالوں کے لیے بدترین ثابت ہوتی ہے۔
More News View all
Comments
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS