Find a Doctor Find a Hospital
روزانہ انگور کھائیں اور عینک کو ہمیشہ کیلئے بھول جا ئیں Neo
یہ ایک چیز کھا ئیں اور عینک کو بھول جا ئیں ویسے تو کون ہے جسے انگور کھانا پسند نہیں ہوگا؟ مگر یہ پھل صرف لذیذ ہی نہیں بلکہ صحت کے لیے انتہائی مفید بھی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس سے دماغ کو الزائمر امراض سے تحفظ ملتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انگور کھانے کی عادت دماغی تنزلی کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ انگور کھانے سے ان اثرات سے تحفظ میں مدد ملتی ہے جو کہ الزائمر امراض سے جڑے ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انگور کو کھانا بھی بینائی کے لیے اچھا ہوتا ہے اور یہ بڑھاپے میں اندھے پن کا خطرہ کم کردیتا ہے۔میامی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ انگور کھانے سے آنکھوں کے قرینے میں نقصان دہ مالیکیولز کے اخراج کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ انگور چونکہ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں اسی لیے وہ ڈی این اے کو نقصان سے بچا کر صحت مند خلیات کو تحفظ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بینائی کو فائدہ ہوتا ہے۔قرینہ آنکھ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں موجود خلیات روشنی پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہونے والے امراض سے اندھے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔محققین کے مطابق انگوروں کو غذا میں شامل کرنے سے قرینے کی صحت کو تحفظ ملتا ہے اور وہ مضر صحت مالیکیولز سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی کرکے آنکھوں کے افعال کو بحال رکھتے ہیں۔ انگور وٹامن سی ، کے اور بیٹا کروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کے اندر سے نقصان دہ مالیکیولز کو نکال باہر کرتے ہیں۔
More News View all
Comments
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS