Find a Doctor Find a Hospital
ورزش نہ کرنے سے بڑھاپا جلدی آ سکتا ہے BBC Urdu
ایک شخص کی جیسے جیسے عمر دراز ہوتی ہے اس کی خلیات کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے، اس سے ڈی این اے کی حفاظت کرنے والے عناصر بھی کمزور پڑتے جاتے ہیںامریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق سست یا غیر فعال رہنے والی خواتین میں زیادہ تیزی سے بڑھاپا آنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے 64 سے95 سال کی 1،500 خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ وہ خواتین تھیں جو دن کا زیادہ تر وقت یا تو بیٹھ کر گزارتی تھیں یا پھر ہر روز 40 منٹ سے کم ورزش کرتی تھیں۔تحقیق میں پایا گیا کہ ایسی خواتین کی خلیے فعال ہیں لیکن زیادہ ورزش کرنے والی خواتین کے خلیات کے مقابلے میں نامیاتی طور پر وہ آٹھ سال بڑی ہیں۔ ایک شخص کی جیسے جیسے عمر دراز ہوتی ہے اس کی خلیات کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے۔ اس سے ڈی این اے کی حفاظت کرنے والے عناصر بھی کمزور پڑتے جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر صحت اچھی نہ ہو اور ہماری طرز زندگی ٹھیک نہ ہو تو بڑھاپا تیزی سے آتا ہے۔ اس لیے بڑھاپے میں بھی انسان کو فعال رہنا چاہیے اور دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ بڑھاپے میں بھی انسان کو فعال رہنا چاہیے اور دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیےدراصل جب ہم بوڑھے ہو رہے ہوتے ہیں تو ڈی این اے کے سرے پر جو ننھی سی ٹوپی ہوتی ہے وہ سکڑنے لگتی ہے۔ ڈی این اے کی اس ننھی ٹوپی کوٹیلومیر کہا جتا ہے۔ یہ ٹیلومیر جوتے کے فیتے کے سرے پر لگی پلاسٹک کی طرح ہوتی ہے۔ ہماری نامیاتی عمر کتنی ہوگی یہ ٹیلومیر کی لمبائی سے پتہ چلتا ہے۔ یہ ہماری كرونولوجیكل عمر سے ہمیشہ مطابقت نہیں رکھتی ہے۔ ٹیلومیر کے سکڑنے یا چھوٹا ہوجانے سے امراض قلب، ذیابیطس اور سنگین قسم کے کینسر جیسی بیماریوں کے ہونے کا خطرہ پیدہ ہوجاتا ہے۔ اس کی لمبائی یہ بھی بتاتی ہے کہ اس شخص کو باقاعدگی سے کتنی ورزش کرنی چاہیے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر علاالدینشادياب کہتے ہیں: 'ہم نے تحقیق میں پایا ہے کہ جو خواتین کام کے بغیر طویل وقت تک بیٹھی رہتی ہیں لیکن پھر بھی باقاعدہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش کرتی ہیں تو ان کا ٹیلومیر چھوٹا نہیں پڑتا ہے۔'شادياب کے مطابق: 'ورزش کرنا تبھی سے شروع کرنا چاہیے جب ہم نوجوان ہوں، جسمانی طور پر ہمیں فعال رہنا چاہیے، اس وقت بھی فعال رہنا چاہیے جب ہم 80 سال کی عمر میں پہنچ جائیں۔' اس تحقیق کو امریکن جرنل آف ایپڈیامولوجی میں شائع کیا گیا ہے۔
More News View all
Comments
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS