کیسے جانیں کہ دل کا دورہ پڑنے والا ہے؟
آج کے دور میں دل کی بیماری عام ہوچکی ہے اور انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرچکی ہے- اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اس بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی لیکن یہ حقیقت نہیں ہے- ہارٹ اٹیک کی متعدد عام علامات ہیں لیکن دل کے دورے کے شکار بننے والے اکثر افراد ان علامات سے ناواقف ہوتے ہیں٬ یہاں تک کہ دیر ہوجاتی ہے- اکثر مریضوں میں جب یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن وہ انہیں نظر انداز کردیتے ہیں اور علاج نہیں کرواتے- لیکن ایسا کرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہوتا ہے- ہم یہاں آپ کو چند ایسی علامات بتائیں گے جو دل کا دورہ پڑنے سے ایک ماہ قبل بھی موجود ہوتی ہیں اور ان کی روشنی میں درست علاج کروایا جاسکتا ہے اور ہارٹ اٹیک سے محفوظ رہا جاسکتا ہے-

چکر اور سانس لینے میں دشواری:
اگر آپ دمہ کے مریض نہیں ہیں لیکن آپ کو پھر بھی سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر چکر آتے ہیں تو یہ علامات چند بیماریوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں جن میں سے ایک دل کا دورہ بھی ہے- چکر آنا دل کے دورے اور دل کی بیماریوں کی عام علامت ہے بالخصوص اس وقت جب آپ کو چکر آنے کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں دقت بھی ہورہی ہو-


مسلسل بیمار رہنا:

اگر آپ کو اکثر قے آنے٬ پیٹ میں درد٬ بدہضمی یا پھر بیماری کی کیفیت طاری رہنے کی شکایت رہتی ہے تو یہ بھی ایک دل کے دورے یا ہارٹ اٹیک کی جانب ہی اشارہ ہے- آپ کو چاہیے اس بارے میں ضرور اپنے معالج کو آگاہ کریں-


سینے میں درد:

سینے میں اٹھنے والی تکلیف دل کے دورے کی ایک بہت ہی عام علامت ہے اور خوش قسمتی سے اکثر لوگ اس بارے میں آگاہی بھی رکھتے ہیں- دل کے دورے کا سبب بننے والا یہ درد مختلف وجوہات کی جانب سے ایک اشارہ بھی ہوسکتا ہے جس میں پٹھوں کا کھچاؤ٬ وٹامن یا پھر معدنیات کی کمی شامل ہے- طبی ماہرین کے مطابق دل کے دورے کا درد سینے کے دائیں جانب یا پھر وسط سے تھوڑا سا بائیں جانب ہوتا ہے-


غیرمعمولی درد:

غیر معمولی درد جیسے کہ گردن وغیرہ کی تکلیف٬ یہ بھی دل کے دورے کا محرک ہوسکتا ہے- یہ درد جسم کے ایسے حصوں میں ہوتا ہے جن کا بظاہر دل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا- ممکن ہے کہ اس درد کا آغاز سینے کے درمیان سے ہو اور پھیلتا ہوا گردن یا پھر جبڑوں تک جا پہنچے- بعض مریضوں کو اس کیفیت میں اپنی گردن اور جبڑوں میں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے-


بےچینی:

بےچینی کی کیفیت بھی دل کی بیماری ہی کی جانب اشارہ کرتی ہے- اگر بےچینی کے ساتھ سر بھاری ہورہا ہے اور چکر بھی آرہے ہیں تو پھر اس بات کے امکانات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے آپ کو حقیقی معنوں میں دل کی بیماری لاحق ہے- ایسی صورت میں خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے-


بلڈ پریشر میں کمی:

اگر آپ کو بلڈ پریشر میں کمی واقع ہونے کی بیماری کا سامنا ہے تو یہ بھی دل کے دورے کی جانب ایک واضح اشارہ ہے- اکثر مریضوں کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے یا پھر انہیں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ نیم بےہوشی کی کیفیت میں ہوں-


دل کی دھڑکن:

دل کی دھڑکن کی بےترتیبی یا پھر تیز ہونے کا تعلق بھی سانس لینے میں دشواری٬ کمزوری اور چکر آنے سے ہے اور یہ تینوں علامات اچانک ہونے والے ہارٹ اٹیک کی جانب اشارہ ہیں- بعض اوقات یہ علامات ہارٹ فیل ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہیں اس لیے ان کا علاج ضروری ہے- انہیں نظر انداز کرنا نقصان کا سبب بن سکتا ہے-


تھکن اور کمزوری:

تھکن اور کمزوری ایسی علامات ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مستقبلِ قریب میں آپ دل کے دورے شکار بن سکتے ہیں- برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ماہرین کے مطابق خواتین تھکن یا کمزوری کا زیادہ شکار رہتی ہیں یا پھر بعض اوقات یہ دونوں علامات خواتین میں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں- لیکن یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ یہ بھی ہارٹ اٹیک کی جانب ایک واضح اشارہ ہے-


ٹھنڈے پسینے:

ایسے مریض جو پہلے ہارٹ اٹیک کا شکار بن چکے ہیں انہیں دوبارہ دل کا دورہ پڑنے سے قبل ٹھنڈے پسینوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے٬ یہاں تک کہ وہ پسینے میں نہا جاتے ہیں- اگر آپ ایسی صورتحال دیکھیں تو مریض کو فوراً قریبی اسپتال پہنچائیں تاکہ ممکنہ ہارٹ اٹیک سے محفوظ رہا جاسکے-

Comment on کیسے جانیں کہ دل کا دورہ پڑنے والا ہے؟
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS