چائے صحت کے لیے انتہائی مفید
تحقیق کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مشروب یعنی چائے انسان کی صحت کے لیے بہت مفید ہے اور یہ بہت سے بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ چائے پینے سے صحت پر برے اثرات پڑتے ہیں٬ مگر ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ چائے پینے سے انسان بہت سے موذی امراض سے بچ سکتا ہے-
 

ماہرین کے مطابق چائے پینے سے دل کے امراض ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں٬ اس کے علاوہ چائے میں موجود کیفین ذیابیطس کے امکانات کو کافی حد تک کم کردیتی ہے-

اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں یا آپ کو تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کا احساس ہورہا ہے تو چائے آپ کے دماغ کو سکون اور راحت کا احساس دلاتی ہے-

غذائی ماہرین کے مطابق چائے کا استعمال سر کے درد٬ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے اور جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے-

اگر آپ کا وزن بڑھ رہا ہے تو آپ کو کھانے پینے سے ہاتھ کھینچنے٬ لمبی دوڑ لگانے٬ جم جانے یا وزن گھٹانے والی دوائیں کھانے کی ضرورت نہیں٬ اس کا سادہ اور آسان حل ہے صرف چائے کے 3 سے 4 کپ روزانہ پئیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اس میں دودھ اور چینی نہ ڈالی جائے-
 


تحقیق میں ظاہر ہوا ہے کہ چائے میں ایسے قدرتی مرکبات کی ایک بڑی مقدار موجود ہے٬ جو جسم کی چربی پگھلانے اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دیتی ہے-

چائے کے فوائد کا سلسلہ صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے خون کا دباؤ کم کرنے میں مفید ہے-

خیال رہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے اسی لیے چائے پئیں لیکن میانہ روی کے ساتھ-

بشکریہ: دی نیوز ٹرائب

Comment on چائے صحت کے لیے انتہائی مفید
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS