جلد کی عمومی بیماریاں
کیا آپ کی جلد پر خارش ہے؟ کیا آپ کی جلد پھٹی ہوئی ہے اور اس پر خراشیں اور عجیب سے نشانات موجود ہیں؟ جلد کا سُوجنا، رنگ اور ہئیت میں تبدیلی اور دھبے ، کسی انفیکشن،جلد کی متعدی بیماری یا الرجی کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی ایسے شخص سے جلد کا چھو جانا جو جلد کی کسی بھی متعدی بیماری کا شکار ہو، جلدی بیماری کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ جلد کی عمومی بیماریوں میں سے کسی کا شکار ہے تو آپ کو اپنے معالج سے رابطہ کر کے اس کا معائنہ کروانا چاہیے۔ جلد کی زیادہ تر بیماریاں خفیف ہوتی ہیں، لیکن چند ایک بیماریاں بعض بڑی بیماریوں کی نشاندہی کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، لہٰذا معالج سے بروقت مشورہ آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
 

·      ہرپیز زوسٹر       Herpes Zoster

اس بیماری میں جسم پر لال اُبھرے ہوئے  دھبے بنتے ہیں  جو کہ بعد میں درد والے پھوڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اور بعد میں  آپ کی جلد پر جلن، خارش، چبھن  اور حساسیت کی علامات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔   یہ Rash عموماً آپ کے جسم  اور کولہوں پر نمودار ہو تے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ صرف انہی جگہوں پر نمودار ہوں، بلکہ جسم کے کسی بھی مقام پر نکل سکتے ہیں۔ یہ عموماً دو ہفتے تک جسم پر رہتے ہیں۔ آپ ان سے نجات تو پا لیتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کے نتیجہ میں ہونے والی  درد ،بے حسی اور خارش کئی ہفتوں، مہینوں اور بعض اوقات سالوں تک چل سکتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے عموماً جلد پر لگانے والی کریمیں، اینٹی وائرل دوائیاں، سٹیرائیڈز وغیرہ دیے جاتے ہیں۔ اس بیماری کا جلد از جلد علاج ضروری ہے تاکہ بعدمیں ہونے والی مستقل تکلیف سے بچا جا سکے۔

 

·      ہائیوز یوٹریکیریا      Hives (Urticaria)  

اس بیماری میں جسم پر دھپڑ نما  نشان بن جاتے ہیں جن میں کھجلی، چبھن اور جلن ہوتی ہے۔  ان نشانات کا حجم بڑا یا چھوٹا ہو سکتا ہے ، بعض اوقات یہ علیحدہ علیحدہ اور بعض اوقات اکٹھی شکل میں بھی بن سکتے ہیں۔ یہ نشانات جسم پر کسی بھی جگہ پر ظاہر ہو سکتے ہیں اور چند منٹوں سے چند دنوں تک جسم پر موجود رہ سکتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں بہت زیادہ  درجہ حرارت میں رہنا، گلے کا انفیکشن، دواؤں سے الرجی، کھانے کی چیزوں اور کھانے میں ڈالی جانے والی اضافی اشیاء Additives  سے الرجی   شامل ہیں۔ اس کے علاج کے لیے  اینٹی الرجی او ر  جلد پر لگانے والی کریمیں استعمال کی جاتی ہیں۔

 ·      سورائسز  Psoriasis

جسم پر نمودار ہونے والے لال رنگ کے موٹے ابھار جو کہ اوپر سے سفید رنگ کے چھلکے سے ڈھکے ہوئے ہوں، سورائسز کی علامات ہیں۔ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ انسانی جسم کا مدافعتی نظام جلد کے نئے خلیات کو بہت جلد بنانا شروع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے سورائسز ہوتی ہے، لیکن ایسا کس بنا پر ہوتا ہے، یہ بات بتانے سے ڈاکٹر حضرات ابھی تک قاصر ہیں۔ سورائسز کے ابھار آپ کے سر، کہنیوں، گھٹنوں اور کمر کے نچلے حصوں میں عموماً  نمودار ہوتے ہیں، لیکن یہ جسم پر اور جگہوں پر بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔یہ مندمل بھی ہو جاتے ہیں  اور دوبارہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاج کے لیے کریمیں اور آئنٹمنٹ، روشنی سے علاج، انجکشنز اور گولیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

 

 

 ·      ایگزیما     Eczema

ایگزیما بہت سی غیر متعدی  علامات کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے جس کی وجہ سے جلد کی سوجن، لال، خشک اور خارش زدہ جلد   کا ہونا ہے۔ڈاکٹر یقینی طور پر بتانے سے قاصر ہیں  کہ ایگزیما کس وجہ سے شروع ہوتی ہے، لیکن وہ یہ ضرور بتاتے ہیں کہ اعصابی تناؤ، جلد کو نقصان پہنچانے والے صابن، الرجی کرنے والی اشیاء اور موسم وہ چند ایک عوامل ہیں جو کہ اس کی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ بالغ افراد میں یہ اکثر کہنیوں، ہاتھوں اور جسم پر ایسی جگہوں پر نمودار ہوتی ہے جہاں جلد کی تہہ بنتی ہے، جیسا کہ گردن، کان کی پچھلی جانب، گھٹنوں کے پچھلی جانب وغیرہ۔  ایگزیما کے علاج کے لیے کئی ادویات ہیں، جن میں سے کچھ کو جلد کے اوپر لگایا جاتا ہے، اور بقیہ کو کھایا یا انجکشن کی صورت میں لگوایا جاتا ہے۔

 ·      کَلابیَہ ۔ وَردیَہ    Rosacea

ایسی بیماری جس میں چہرہ لال ہوجائے،  اور پھر  یہ لالی مریض کی ناک، گالوں ، ٹھوڑی اور ماتھے تک پھیل جائے، کلابیہ یا  روزیسیا ہو سکتی ہے۔جلد وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ لال ہوتی جاتی ہے اور مریض کے چہرے کی رگیں نظر آنے لگتی ہیں۔ مریض کو جلد کے موٹے ہوجانے، گومڑ اور پیپ سے بھرے کیل مہاسوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اس بیماری سے مریض کی آنکھیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس بیماری کے علاج کے لیے ادویات دستیاب ہیں جو کہ جلد پر لگائی اور کھائی جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر بیماری کا شکار رگوں اور لال اور موٹی ہوجانے والی جلد کا لیزر کے ذریعے بھی علاج کر سکتے ہیں۔

 

       شیو سے ہونے والے زخم Razor Bumps

اکثر شیو کے بعد چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر Razor Bumps بن جاتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ وہ بال ہیں جن کا سِرا  ریزر بلیڈ سے کٹنے کے بعد تیز دھار کی مانند ہو جاتا ہے اور وہ واپس جلد میں جا گھُستا ہے اور جلد کے اندر ہی بڑھنے لگتا ہے۔ اس کی بنا پر جلد پر چبھن، کیل مہاسے  حتٰی کہ خراشیں بھی پڑ سکتی ہیں۔ ان زخموں سے بچنے کے لیے شیوکرنے سے پہلے گرم پانی سے نہائیں تاکہ جلد نرم ہو جائے ، شیو کرتے ہوئے ریزر کو بالوں کے رخ پر رکھیں، اور شیو کرتے ہوئے جلد کو کھینچنے سے احتراز برتیں۔ مزید یہ کہ شیو والے ریزر کو جلد  پر اوپر سے نیچے کی جانب چلائیں، نہ کہ ایک جانب سے دوسری جانب۔ ہمیشہ شیونگ کریم یا شیونگ جیل استعمال کریں اور شیو کرنے کے بعد جگہ کو ٹھندے پانی سے دھوئیں اور موائسچرائزر استعمال کریں۔

۔

 ·      مسّے       Skin Tags

گوشت کی رنگت یا اس سے گہرے رنگ کے، جسم کی جلد کے ساتھ لٹکتے چھوٹے سے لوتھڑے، مسّے کہلاتے ہیں۔ عموماًیہ گردن، سینے، بغلوں، چھاتیوں کے نیچے یا رانوں کے اندرونی حصوں پر پائے جاتے ہیں۔زیادہ تر یہ خواتین اور بڑی عمر کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں ۔یہ بے ضرر ہوتے ہیں اور عموماً ان میں کوئی بھی تکلیف نہیں ہوتے، تاوقتیکہ کپڑے پہننے کے دوران کپڑوں کی  یا جلد کی رگڑ سے ان میں چبھن ہونے لگے۔ ڈاکٹر حضرات انہیں کاٹ کر، جما کر یا جلا کر جسم سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔

 

 

 ·      مہاسے     Acne

مہاسے تب پھوٹتے ہیں جب مسام جلد کے تیل سے بند ہوجائیں اور جلد کے مردہ خلیے سوج جائیں۔ جو مسام کھلے رہ جاتے ہیں وہ کالے ہوجاتے ہیں اور "بلیک ہیڈ" کہلاتے ہیں اور جو مسام مکمل بند ہو جاتے ہیں  انہیں ہم "وائٹ ہیڈ" کہتے ہیں۔ مہاسوں کی وجوہات میں بیکٹیریا اور ہارمونز شامل ہیں اور عموماً ان کا اثر آپ کے چہرے پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آپ کے سینے اور کمر پر بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے پیپ سے بھرے مہاسے بھی بن سکتے ہیں اور یہ Cyst کی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ مہاسوں سے بچنے کے لیے اپنی جلد کے تیل والے مقامات Oily Skin کو صاف رکھیں اور مہاسوں کو اور جلد کو دبانے سے احتراز کریں کیونکہ اس کے نتیجے میں آپ کی جلد پر انفیکشن ہو سکتا ہے اور نشانات بھی پڑ سکتے ہیں ۔

Comment on جلد کی عمومی بیماریاں
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS