چکن گونیا کیا ہے؟
چکن گونیا نامی یہ وائرس مچھروں سے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس پھیلانے والے مچھر کم و بیش وہی ہیں جو ڈینگی اور زکا وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کی سب سے پہلی اور عام علامات جوڑوں میں درد اور بخار ہے۔

اگر کوئی عام مچھر چکن گونیا سے متاثرہ کسی شخص کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی اس وائرس کے مچھر میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کے بعد وہ بھی اس کے پھیلاؤ میں حصہ دار بن جاتا ہے۔


علامات کیا ہیں؟

چکن گونیا وائرس کی علامات 3 سے 7 دن کے درمیان ظاہر ہوتی ہیں۔
اس وائرس کی سب سے پہلی اور عام علامت گھٹنوں، ہتھیلیوں اور ٹخنوں سمیت جسم کے دیگر جوڑوں میں شدید درد اور تیز بخار ہے
دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، جوڑوں کا سوج جانا یا جلد پر خراشیں (ریشز) پڑجانا شامل ہیں۔

 


آسان ہدف کون ہے؟

اس بیماری کا سب سے آسان ہدف نومولود بچے، بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، اور امراض قلب میں مبتلا افراد ہیں۔
ایک بار اس وائرس کا شکار ہوجانے کے بعد دوبارہ اس وائرس کا نشانہ بننے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

 


کیا اس سے بچاؤ ممکن ہے؟


تاحال اس وائرس کی کوئی ویکسین دریافت نہیں کی جاسکی نہ ہی کوئی ایسی دوا ہے جو بطور خاص اس وائرس کے خلاف مزاحم ہوسکے۔
یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس وائرس سے موت واقع نہیں ہوتی تاہم اس کی علامتیں شدید تکلیف میں مبتلا کردیتی ہیں جبکہ یہ بیماری انسان کو بری طرح کمزور کردیتی ہے۔
اس وائرس کا مناسب علاج کرنے والے افراد ایک ہفتے میں صحت یاب ہوجاتے ہیں البتہ جوڑوں کا درد ایک ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

 

احتیاطی تدابیر اپنائیں:

چکن گونیا وائرس چونکہ مچھر سے منتقل ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مچھروں سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
اگر آپ چکن گونیا کے متاثرہ مریض سے ملے ہیں، یا کسی ایسے علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں یہ وائرس پھیلا ہوا ہے تو محتاط رہیں اور اوپر بتائی گئی علامتوں کے معمولی طور پر ظاہر ہوتے ہی فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ آرام کریں۔
جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے مائع اشیا کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
وائرس کا نشانہ بننے سے صحت یاب ہونے تک اسپرین لینے سے گریز کریں۔
اگر آپ پہلے سے کسی مرض کا علاج کر رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور اس سے آگاہ کریں۔

 

Source : Ary News

Comment on چکن گونیا کیا ہے؟
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS