بلیک ہیڈز کا گھریلو علاج
ویسے تو کسی بھی عمر میں آپ کو بلیک ہیڈز کا مسئلہ درپیش آ سکتا ہے، لیکن نوعمری اور بلوغت کے دنوں میں اس مسئلے کا سامنا اکثر نوجوانوں کو رہتا ہے۔بلیک ہیڈز کالے یا پیلے رنگ کے چھوٹے ابھار ہوتے ہیں جو کہ بالوں کے فولیکلز [ جڑ میں موجود غدودی گڑھے] میں مٹی اور مردہ خلیوں کے اکٹھے ہونے کی وجہ سے بنتے ہیں۔

عوامل جیسے جسم میں ہارمونل تبدیلیاں، کاسمیٹک مصنوعات کا بے تحاشا استعمال، جلد کی غیر مناسب دیکھ بھال، سٹڑیس اور جینیات اس مسئلے کی بنیادی وجوہات بن سکتےہیں۔بلیک ہیڈز عام طور پر چہرے پر بنتےہیں، لیکن یہ ناک پر، سینے،کمر، گردن، بازو اور کندھے پر بھی نمودارہو سکتے ہیں، اور اگر باقاعدہ علاج نہ کیا جائے تو یہ وبائی شکل میں پورے بدن پر بھی پھیل سکتے ہیں۔
بلیک ہیڈز کے ویسے تو مارکیٹ میں کئی قسم کے علاج موجود ہیں، بازار میں کئی قسم کی ادویات ، کریمیں، لوشن وغیرہ مل جاتے ہیں، لیکن بہترین طریقہ علاج قدرتی اجزاء پر مشتمل گھریلو نسخہ جات ہیں جو آپ کے کچن میں موجود کئی اجزاء پر مشتمل ہیں اور آسانی سے گھر پر ہی تیار ہو سکتے ہیں اور ان کی مدد سے آپ چند ہی دنوں میں بلیک ہیڈز کا علاج کر سکتے ہیں۔
بیکنگ سوڈا
بیکنگ سوڈا بلیک ہیڈز اور ایکنی کے لیے نہایت کارآمد ذریعہ علاج ہے۔یہ جلد کو ڈیڈ سکن اور گندگی سے صاف کرنے میں انتہائی موثر ہے۔
• دو کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا اور منرل واٹر آپس میں اچھی طرح حل کر لیں اور پیسٹ بنا لیں • اس پیسٹ کو متاثرہ جگہ پر لگائیں اور آہستگی سے مساج کریں
• دھونے سے پہلے کچھ دیر کے لیے اس ماسک کو خشک ہونے دیں۔
• اس طریقہ کا ہفتہ میں ایک یا دو بار دہرائیں


دار چینی
دارچینی کو بلیک ہیڈز ختم کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
• ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی دارچینی ایک چائے کا چمچ لیموں کے رس میں مکس کر لیں۔چاہیں تو اس میں ایک چٹکی ادرک پاؤڈر بھی ڈال لیں۔اس محلول کو پورے چہرے پر پھیلا دیں، اور دس سے پندرہ منٹ کے لیے چہرے پر لگا رہنے دیں اور پھر تاز ہ پانی سے دھو دیں۔
• دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ ایک چائے کا چمچ دارچینی پاوڈر ایک چمچ خالص شہد میں مکس کر لیں اور گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔اسے متاثرہ جگہ پر لگا دیں اور ساری رات لگا رہنے دیں۔صبح اسے سادہ پانی سے دھو دیں۔ بہترین نتائج کے لیے اس طریقہ کو دس دن کے لیے دہرائیں۔

جو کا دلیہ – اوٹ مِیل
جو کے دلیہ اور دہی کا آمیزہ آپ کی جلد کو بلیک ہیڈز سے صاف رکھنے کے لیے بہترین طریقہ علاج ہے۔
• حسبِ ضرورت جو کا دلیہ لیں، اس میں ایک چائے کا چمچ شہد اور چار عدد ٹماٹروں کا رس شامل کر لیں اور اس کا گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔
• اسے اپنے چہرے پر اچھی طرح رگڑ کر لگائیں
• دس منٹ کے بعد اسے دھو دیں
• صاف جلد پانے کے لیے اس ترکیب کو باقاعدگی سے دہراتے رہیں

لیموں کا رس
لیموں کے رس کو مہاسوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ بلیک ہیڈز ختم کرنےکے لیے بھی نہایت موثر ثابت ہوا ہے۔لیموں کے رس میں موجود وٹامنز اور غذائی عناصر ہر قسم کی جلد کے لیے نہایت سودمند ہیں۔
• آدھے کٹے لیموں پر چند قطرے خالص شہد کے ڈالیں اور اس لیموں کو آہستہ آہستہ اپنے چہرے پر ملیں خاص کر ان حصوں پر جہاں بلیک ہیڈز ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔دس منٹ بعد چہرے کو دھو لیں۔ ہفتے میں دو مرتبہ دہرائیں۔
• علاوہ ازیں آپ لیموں کے رس کو دودھ یا عرق گلاب میں ملا کر فیس کلینزر بھی بنا سکتے ہیں اور اسے ہفتے میں کئی بار چہرے کی صفائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

سبز چائے
سبز چائے کو بھی بلیک ہیڈز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
• ایک کھانے والا چمچ سبز چائے کی خشک پتیوں کو تھوڑے سے پانی میں ملا کر پیسٹ بنا لیں۔
• متاثرہ جگہ پر اس پیسٹ کو دو سے تین منٹ کے لیے لگائیں۔چکنی جلد کی صورت میں ذرا زیادہ دیر تک اس پیسٹ کو متاثرہ جگہ پر ملیں۔یہ سکرب چکنی جلد کو گہرائی میں جا کر صاف کرتا ہے اور مساموں کو کھولتا ہے۔
• ہلکے گرم پانی سے چہرے کو دھو لیں۔

شہد
شہد میں موجود خاصیت چہرے کی جلد اور بلیک ہیڈز دونوں کے لیے بہترین کام کرتی ہے۔شہد جلد کو نمی پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسے ٹائٹ بھی کرتا ہے اور آپ کی جلد کو چمک اور تازگی فراہم کرتا ہے۔
• خالص شہد اپنے چہرے پر لگائیں اور دس منٹ کے لیے لگا رہنے دیں
• دس منٹ بعد اسے ہلکے گرم پانی سے دھو دیں۔

Comment on بلیک ہیڈز کا گھریلو علاج
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS