چہرے کے بدنما داغ اور مہاسوں کا علاج اور ضروری اقدامات
مہاسوں کے علاج کا طریقہ ان کی نوعیت پر منحصر ہے۔ یعنی جلد پر ہلکے، درمیانے یا شدید ، کس قسم کے مہاسے ہیں؟ جس قسم کے مہاسے ہوں، اسی کے مطابق ان کا علاج ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے معالج بعض اوقات مختلف قسم کے ٹریٹمنٹ کو بہتر نتائج حاصل کرنے اور دوائیوں کے خلاف مدافعتی بیکٹیریا کی مزاحمت کو کم کرنے کی غرض سے اکٹھا شروع کر دیں۔
علاج میں کریم، جیلGel یا لوشن شامل ہو سکتے ہیں جنہیں مہاسوں پر یا بعض اوقات پوری جلد پر لگایا جاتا ہے، جو کہ عموماً سینے اور کمر پر بننے والے مہاسوں کی صورت میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کھانے کے لیے بھی ادویات تجویز کی جاتی ہیں ۔

ہلکے قسم کے مہاسے:
ایسے مہاسوں[جن میں وائٹ ہیڈ، بلیک ہیڈ اور پِمپل  شامل ہیں] کے علاج کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔
· چہرے کو نیم گرم پانی  اور کسی ہلکے صابن ، جس کا اثر بہت تیز نہ ہو[ مثلاً Dove] سے اچھی طرح دھو کر صاف کر لیں۔
· چہرے پر بینزوئل پر آکسائیڈ [جنرک نام] لگائیں۔
· چہرے پر سلیسیلک ایسڈ [جنرک نام] لگائیں۔

جنرک نام والی ادویات مارکیٹ میں مختلف کمپنیوں کے مختلف برانڈ نیم سے دستیاب ہیں اور کسی بھی اچھے میڈیکل سٹور سے آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان ادویات کے کام نہ کرنے کی صورت میں آپ اپنے معالج سے رابطہ کریں ۔آپ کی مہاسوں کے معائنے کا بعد آپ کے معالج آپ کو اس سع مطابقت رکھتے ہوئے لوشن یا کریم تجویز کریں گے ۔ مریض  اپنی علامات سے مطابقت رکھتا ہوا کوئی اینٹی بائیوٹک لوشن بھی استعمال کر سکتے ہیں یا پھر کوئی آیسا لوشن بھی استعمال کر سکتے ہیں جو چہرے کے مساموں کو کھول کر مہاسوں کے علاج میں معاون ثابت ہو۔

درمیانے اور شدید نوعیت کے مہاسے:
بعض اوقات مہاسوں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے علاج کے لیے تیز ادویات اور مختلف قسم کی تھیراپی استعمال کرنی پڑتی ہیں ۔گہرے پھوڑے، جیسا کہ کیل اور جڑ والے دانے اکثر نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔اس کے لیے معالج مریضوں کو اکثر اینٹی بائیوٹک ادیات تجویز کرتے ہیں تاکہ زخم بھر نے کا عمل جلد از جلد شروع ہو سکے۔اس قسم کے مہاسوں میں مختلف قسم کی تھراپیز کے ملاپ سے علاج کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے علاج میں مندرجہ ذیل طریقہ کار اپنایا جا سکتا ہے۔
· مہاسوں والی جگہ ہر بینزوئل پر آکسائیڈ لگایا جاتا ہے
· گہرے پھوڑوں اور Cyst کا مواد نکالا جاتا ہے
· معالج کے تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک جیل، کریم اور لوشن استعمال کیے جاتے ہیں
· معالج کی تجویز کردہ کھانے والی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے
یاد رہے کہ یہ تمام علاج معالج کی زیرِ نگرانی ہوتا ہے اور پھوڑوں سے مواد نکالنے کا عمل بھی معالج خود ہی سر انجام دیتے ہیں ۔

جلد پر نشانات، داغ اور ان  کا علاج
چہرے اور جلد پر مہاسوں یا اور وجوہات کی بنا پر پڑنے والے داغوں اور نشانات کے بارے میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ ان کی وجوہات میں کیل مہاسوں کے ساتھ ساتھ دھوپ سے جلد پر پڑنے والے اثرات اور غیر معیاری میک اپ ،رنگ گورا کرنے والی کریمیں اورکیمیائی اجزاء سے بنے انتہائی خطرناک ایسے لوشن شامل ہیں جو گھنٹوں میں رنگ گورا کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس لیے ایسی کوئی بھی مصنوعات خریدنے سے پہلے ان کے بارے میں مکمل تسلی کرنا اور معلومات حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں چہرے پر پڑنے والے چھائیاں بھی عموماً خواتین کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہوتی ہیں۔ معالج حضرات ان داغوں اور اور چھائیوں کا بالواسطہ تعلق خوراک سے جوڑتے ہیں اور جسم میں مختلف چیزوں کی کمی جن میں وٹامنز اور نمکیات شامل ہیں، کو بھی اس کی ایک وجہ بتاتے ہیں۔
سب سے پہلے اپنے معالج سے چہرے پر پائے جانے والے داغوں کا معائنہ کروائیے۔ کسی اچھے جلد کے ماہر ڈاکٹر Dermatologist سے مشورہ کریں اور اس چیز کا حتمی تعین کروائیں کہ چہرے پر پائے جانے والے گہرے رنگ کے داغ کسی قسم کی خطرناک بیماری کی علامت تو نہیں۔ معالج کی تجویز کردہ کریم، لوشن یا آئنٹمنٹ کا باقاعدگی سے استعمال کریں اور کھانے والی ادویات کی تجویز ہونے کی صورت میں انہیں بھی باقاعدگی سے کھائیں۔ دھوپ میں نکلتے وقت سورج کی روشنی سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات ضرور کریں۔ تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ اپنے معالج سے باقاعدگی سے چیک اپ اور مشورہ کو یقینی بنائیں ۔
Comment on چہرے کے بدنما داغ اور مہاسوں کا علاج اور ضروری اقدامات
Post Your Comments
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.
MORE DOCTORS